جنگِ خیبر میں حضرت علی علیہ السلام کا مثالی کردار اور شجاعت | Jang e Khayber | Islami Jazeerah

جنگ خیبر  جنگِ خیبر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا کردار

جنگِ خیبر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی لازوال شجاعت

غزوہِ خیبر (سنہ 7 ہجری) اسلامی تاریخ کا ایک ایسا معرکہ ہے جس کی فتح میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ (امام علی علیہ السلام) کا کردار مرکزی اور حتمی تھا۔ یہودیوں کے مضبوط ترین گڑھ اور ناقابلِ تسخیر قلعہ **"قموص"** کی فتح آپ ہی کی شجاعت اور ایمانی طاقت کا نتیجہ تھی۔

رسول اللہ ﷺ کا تاریخی اعلان

خیبر کئی مضبوط قلعوں پر مشتمل تھا، جن میں سے اکثر کو مسلمانوں نے یکے بعد دیگرے فتح کر لیا۔ لیکن یہودیوں کا مرکزی اور سب سے مضبوط قلعہ **قموص** فتح نہیں ہو پا رہا تھا، اور محاصرہ طویل ہو گیا۔ مسلمان تھکاوٹ اور بھوک کا شکار ہونے لگے اور قلعے کے دروازے مسلمانوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔

اس نازک مرحلے پر، رسول اللہ ﷺ نے ایک تاریخی اور یادگار اعلان فرمایا: "میں کل یہ عَلم اُس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ ایسا حملہ آور ہے جو پیٹھ نہیں دکھائے گا اور اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔"

اعزاز کی حق داری اور شفا

اگلی صبح ہر صحابی کی تمنا تھی کہ یہ عظیم اعزاز اسے حاصل ہو، مگر رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: **"علی کہاں ہیں؟"** حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس وقت آشوبِ چشم (آنکھوں کی شدید تکلیف) میں مبتلا تھے اور لشکر کے عقب میں تھے۔ انہیں بلایا گیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنا لعابِ دہن ان کی آنکھوں پر لگایا۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ حضرت علیؓ کی آنکھوں کی تکلیف فوری طور پر ختم ہو گئی اور وہ میدانِ جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔

رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد بنفسِ نفیس جنگ کا پرچم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد فرمایا اور ان کو فتح کی بشارت دی۔

قلعہ قموص کی فتح اور شجاعت

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے پرچم تھام کر قلعہ قموص کی طرف پیش قدمی کی۔ دشمن کے سامنے آتے ہی ایک فیصلہ کن اور یادگار مقابلہ شروع ہوا۔ اس معرکے کے دوران ایک یہودی جنگجو نے حضرت علیؓ پر حملہ کیا جس سے آپ کی ڈھال ہاتھ سے چھوٹ گئی۔

اس موقع پر، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے وہ کارنامہ انجام دیا جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا: آپ نے بڑھ کر قلعے کا لوہے کا **بھاری دروازہ** جڑ سے اکھاڑ دیا اور اسے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا . بعض روایات کے مطابق، یہ دروازہ اتنا وزنی تھا کہ بعد میں آٹھ افراد بھی مل کر اسے اٹھا نہ سکے۔ اس غیر معمولی شجاعت نے دشمن کے حوصلے مکمل طور پر توڑ دیے اور قلعہ قموص فتح ہو گیا۔

حضرت علیؓ کے کردار کے اثرات

جنگِ خیبر میں حضرت علیؓ کا کردار صرف ایک بہادری کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے:

  • **فوری فتح:** قلعہ قموص کی فتح کے بعد باقی قلعے بھی جلد ہی فتح ہو گئے، جس سے جنگ ختم ہو گئی اور مسلمانوں کو بھاری کامیابی ملی۔
  • **رسالت کی تصدیق:** حضرت علیؓ کی شجاعت نے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کو سچا ثابت کر دیا کہ "اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔"
  • **اقتصادی استحکام:** خیبر کی زرخیز زمینوں کی فتح سے اسلامی ریاست مدینہ کو ایک بڑا اقتصادی استحکام ملا۔

نتیجہ

غزوہِ خیبر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بہادری، ایمانی طاقت اور فیصلہ کن کردار تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ایمان مضبوط ہو اور اللہ کا بھروسہ ہو، تو دنیا کی بڑی سے بڑی رکاوٹیں بھی عبور کی جا سکتی ہیں۔

جنگِ خیبر میں حضرت علی علیہ السلام کا مثالی کردار اور شجاعت | Jang e Khayber | Islami Jazeerah


Post a Comment

0 Comments