جنگِ خیبر: مکمل تفصیلات، وجوہات اور یہودی قلعوں کی فتح | سیرتِ نبوی | Jang Khayber | Islami Jazeerah

جنگِ خیبر کے تفصیلی حالات

جنگِ خیبر: تاریخ کا ایک فیصلہ کن معرکہ

جنگِ خیبر، جو سنہ 7 ہجری میں پیش آئی، اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن غزوہ ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں اور مدینہ کے شمال میں واقع ایک طاقتور یہودی آبادی کے درمیان لڑی گئی، جس نے اسلامی ریاست کو اندرونی سازشوں سے پاک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

جنگ کے اسباب

خیبر مدینہ سے تقریباً 150 کلومیٹر دور ایک بڑا اور زرخیز علاقہ تھا جو کئی مضبوط قلعوں پر مشتمل تھا۔ یہاں یہودی آباد تھے اور وہ مال و دولت اور فوجی طاقت کے لحاظ سے بہت مضبوط تھے۔ جنگ کے بنیادی اسباب درج ذیل تھے:

  • سازشوں کا گڑھ: خیبر کے یہودی، خاص طور پر بنو نضیر کے جلا وطن سردار، مدینہ کے خلاف سازشوں کا مرکز بن چکے تھے۔ انہوں نے ہی جنگِ خندق میں کفارِ مکہ کو مسلمانوں کے خلاف متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
  • اندرونی خطرہ: اگرچہ قریش کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا تھا، لیکن خیبر کا وجود اسلامی ریاست کی اندرونی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ تھا۔ حدیبیہ کے معاہدے کے بعد مسلمانوں کو اس اندرونی خطرے سے نمٹنے کا موقع ملا۔
  • دشمن کو کمزور کرنا: مسلمانوں کو اپنی سرحدوں اور علاقے کی سلامتی کے لیے اس طاقتور دشمن کو خاموش کرنا ضروری تھا۔

مسلمانوں کی تیاری اور روانگی

رسول اللہ ﷺ نے تقریباً 1400 سے 1600 صحابہ کرام کے ساتھ خیبر کا رخ کیا۔ یہ وہی صحابہ تھے جو معاہدہ حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے خیبر کو اس وقت گھیر لیا جب وہاں کے لوگ صبح سویرے اپنے کھیتوں کی طرف نکل رہے تھے۔ وہ مسلمانوں کو دیکھ کر حیران اور پریشان ہو گئے، اور اپنے قلعوں میں پناہ لے لی۔

قلعوں کا محاصرہ

خیبر کئی مضبوط قلعوں پر مشتمل تھا، جن میں سے اہم ترین **قموص، ناعم، صعب بن معاذ، اور وطيح و سلالم** تھے۔ یہودیوں نے ان قلعوں میں بہترین انتظام کر رکھا تھا اور خوراک کا ذخیرہ بھی موجود تھا۔ مسلمانوں نے ایک ایک کر کے ان قلعوں کا محاصرہ کیا اور انہیں فتح کرنا شروع کیا۔

قلعہ ناعم اور قلعہ صعب کو فتح کرنے میں نسبتاً آسانی ہوئی، مگر سب سے مشکل مرحلہ قلعہ قموص کا تھا، جو ان کا مضبوط ترین گڑھ تھا۔ محاصرہ طویل ہو گیا اور کئی دن گزر گئے۔

مولا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں فتح

جب کئی دن کی کوششوں کے باوجود قلعہ قموص فتح نہ ہو سکا اور مسلمان تھکاوٹ کا شکار ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک تاریخی اعلان فرمایا: **"کل میں اس شخص کو پرچم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔"**

اگلے دن سب صحابہ کرام میں اشتیاق تھا کہ یہ اعزاز کس کو ملے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: "علی کہاں ہیں؟" حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس وقت آشوبِ چشم (آنکھوں کی تکلیف) کی وجہ سے پیچھے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے لعابِ دہن سے ان کی آنکھوں کو لگایا، جس سے فوری شفا ہوئی۔ آپ ﷺ نے انہیں پرچم عطا کیا اور وہ قلعے کی طرف بڑھے۔

حضرت علیؓ نے قلعے کے دروازے کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور اسے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، اور وہ قلعہ آپؓ کے ہاتھوں فتح ہوا۔ یہ ایک عظیم معجزہ اور حضرت علیؓ کی شجاعت کا غیر معمولی مظاہرہ تھا۔ اس کے بعد بقیہ قلعے بھی یکے بعد دیگرے فتح ہو گئے۔

جنگ کا نتیجہ اور اثرات

جنگِ خیبر کی فتح نے اسلامی ریاست پر گہرے اثرات مرتب کیے:

  • اندرونی سلامتی: مدینہ کے گرد و نواح میں یہودیوں کی طاقت مکمل طور پر ختم ہو گئی اور مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے ہمیشہ کے لیے نجات ملی۔
  • اقتصادی مضبوطی: خیبر کی زمینیں انتہائی زرخیز تھیں اور یہاں کھجوروں کی بہت بڑی پیداوار ہوتی تھی۔ یہ زمینیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں، جس سے مدینہ کی اقتصادی حالت بہت بہتر ہوئی۔
  • غلاموں کی واپسی: جنگ کے بعد حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے صحابہ کرام، جن میں حضرت جعفر بن ابی طالبؓ بھی شامل تھے، واپس مدینہ پہنچے، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے نہیں معلوم کہ میں خیبر کی فتح پر زیادہ خوش ہوں یا جعفر کی واپسی پر۔"
  • صلح نامہ: آخری قلعوں میں رہنے والے یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ انہیں یہاں رہنے کی اجازت دی جائے اور وہ اپنی زمینوں پر کام کریں گے، اور پیداوار کا نصف حصہ مسلمانوں کو دیں گے۔ آپ ﷺ نے یہ مطالبہ منظور فرما لیا۔

خلاصہ

غزوہِ خیبر ایک ایسا فیصلہ کن معرکہ تھا جس نے جزیرہ نما عرب میں اسلامی ریاست کو ایک مضبوط فوجی اور اقتصادی قوت کے طور پر قائم کر دیا۔ یہ جنگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی لازوال بہادری، اور رسول اللہ ﷺ کی حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

جنگِ خیبر: مکمل تفصیلات، وجوہات اور یہودی قلعوں کی فتح | سیرتِ نبوی | Jang Khayber | Islami Jazeerah

Post a Comment

0 Comments