امام حسین علیہ السّلام کا ماتم کہاں سے اور کیسے شروع ہوا؟
امام حسین علیہ السّلام کی شہادت ایک ایسا المیہ ہے جس نے امت مسلمہ کو صدیوں سے غمگین رکھا ہے۔ میدانِ کربلا میں نواسۂ رسول ﷺ، اُن کے اہلِ بیت اور باوفا ساتھیوں کی قربانی نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس المناک واقعے کے بعد سب سے پہلا ماتم کس نے کیا؟ اور یہ روایت کہاں سے شروع ہوئی؟ آئیے جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے پہلا ماتم: حضرت زینبؑ اور اہلِ بیتؑ
امام حسینؑ کی شہادت کے فوراً بعد سب سے پہلا ماتم اہلِ بیتؑ نے خود کیا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا، امام سجاد علیہ السّلام، اور دیگر اسیرانِ کربلا نے کوفہ اور شام کے درباروں میں غم اور احتجاج کے ساتھ امام حسینؑ کا ماتم کیا۔ یہ صرف آنسو بہانے کا عمل نہ تھا بلکہ ایک خاموش احتجاج اور پیغامِ کربلا کو عام کرنے کا ذریعہ بھی تھا۔
مدینہ منورہ میں عزاداری
جب قافلہ اہلِ بیتؑ قید سے رہا ہو کر مدینہ واپس آیا تو وہاں رونے، سینہ کوبی، اور نوحہ خوانی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اہلِ مدینہ نے گھروں، مساجد اور گلیوں میں مجلسیں برپا کیں۔ خواتین نے حضرت زینبؑ سے واقعاتِ کربلا سنے اور نوحہ خوانی کی روایت کا آغاز ہوا۔
عزاداری کی تنظیمی صورت
بعد ازاں امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے ادوار میں مجالس کو منظم انداز دیا گیا۔ انہوں نے لوگوں کو شہداء کربلا کی یاد منانے اور امام حسینؑ کے پیغام کو زندہ رکھنے کی تلقین کی۔ شعرا نے مرثیے اور نوحے لکھے، اور یہ عمل رفتہ رفتہ ایک باقاعدہ رسم میں بدل گیا۔
برصغیر میں ماتم اور نوحہ خوانی
برصغیر پاک و ہند میں امام حسینؑ کی عزاداری کا آغاز سادات اور اہلِ تشیع کی آمد کے ساتھ ہوا۔ لکھنؤ، حیدرآباد دکن، کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں عزاداری کو فروغ ملا۔ جلوس، مجالس، تعزیے، نوحے اور ماتم کی روایتوں نے یہاں ایک روحانی ماحول پیدا کیا۔
آج دنیا کے ہر کونے میں امام حسینؑ کا ماتم مختلف انداز میں منایا جاتا ہے، اور یہ جذبہ اُس پیغام کو زندہ رکھے ہوئے ہے جو کربلا میں امام حسینؑ نے ہمیں دیا: ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، حق کا ساتھ دینا، اور اللہ کی رضا کے لیے قربانی دینا۔
سلام ہو حسینؑ پر، اُن کے غم پر ماتم کرنے والوں پر، اور اُن کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے والوں پر۔

1 Comments
Masha Allah
ReplyDelete