سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے دروازے کو جلانے کا واقعہ
حضرت رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد پیش آنے والے واقعات میں سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے دروازے کو جلانے کا واقعہ تاریخ اسلام کے سب سے الم ناک اور حساس موضوعات میں سے ایک ہے۔ یہ واقعہ اس دور کے شدید سیاسی اور خلفتی تناؤ کی عکاسی کرتا ہے جو امتِ مسلمہ میں پیدا ہو چکا تھا۔
واقعہ کا بنیادی پس منظر
رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد، **خلافت اور جانشینی** کا مسئلہ امت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن کر ابھرا۔
- **حضرت علیؓ کی پوزیشن:** حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور اہلِ بیت کی ایک بڑی تعداد کا موقف تھا کہ خلافت پر سب سے زیادہ حق حضرت علیؓ کا ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے وصی، جانشین اور اہلِ بیت کے سربراہ تھے۔
- **بیعت سے انکار:** حضرت علیؓ نے رسول اللہ ﷺ کی تدفین اور دیگر امور کی وجہ سے فوری طور پر مدینہ میں ہونے والی بیعت میں حصہ نہیں لیا اور بیعت کرنے سے **اجتناب** فرمایا۔
- **اجتماعی بیعت کا دباؤ:** مدینہ کے نئے حکومتی ڈھانچے کا مقصد تھا کہ سب سے بیعت لی جائے تاکہ ریاست کا استحکام قائم ہو۔ اس مقصد کے تحت، حضرت علیؓ پر بیعت کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جانے لگا۔
دروازہ جلانے کا مقصد اور محرک
کچھ تاریخی روایات کے مطابق، جب یہ واضح ہو گیا کہ حضرت علیؓ اور ان کے قریبی ساتھی حضرت فاطمہؓ کے گھر میں موجود ہیں اور وہ خود باہر آکر بیعت کرنے کو تیار نہیں ہیں، تو یہ واقعہ پیش آیا۔
مقصد یہ تھا کہ حضرت علیؓ کو **جبرًا** گھر سے باہر نکال کر ان سے بیعت لی جائے اور یوں خلافت کے معاملے کو حتمی شکل دی جائے۔ جب گھر میں داخل ہونے کی مزاحمت کی گئی تو دروازے کو آگ لگانے کا حکم دیا گیا۔
سیدہ فاطمہ زہراؑ کا کردار
اس نازک وقت میں، سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے والد کے گھر کی حفاظت اور اپنے شوہر کی حمایت کے لیے ایک تاریخی اور بہیمانہ مزاحمت کی۔
- **مقامِ تقدس:** حضرت فاطمہؓ نے گھر کے باہر کھڑے افراد کو اپنے والد کے گھر کی حرمت اور احترام کی یاد دلائی۔ یہ وہ گھر تھا جسے رسول اللہ ﷺ اپنے لیے سب سے زیادہ عزیز جانتے تھے اور جسے کبھی بھی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوا جاتا تھا۔
- **دروازے پر کھڑا ہونا:** تاریخی روایات کے مطابق، جب دروازے کو دھکا دیا گیا یا اسے جلانے کی کوشش کی گئی، تو سیدہ فاطمہؓ دروازے کے پیچھے کھڑی ہو گئیں تاکہ گھر کی عصمت کو بچایا جا سکے۔
واقعہ کے نتائج اور سیدہ فاطمہؓ کی شہادت
یہ واقعہ صرف لکڑی کے دروازے کا جلنا نہیں تھا، بلکہ اس کا نتیجہ انتہائی شدید نکلا:
- **جسمانی اذیت:** دروازہ ٹوٹنے یا دبانے کے نتیجے میں سیدہ فاطمہؓ کو شدید جسمانی چوٹیں آئیں، جو ان کی صحت کی مستقل خرابی اور بالآخر ان کی مظلومانہ شہادت کا سبب بنیں۔
- **ناراضگی:** سیدہ فاطمہؓ اس واقعہ اور اس میں شامل افراد سے انتہائی ناراض ہوئیں اور آپ نے وفات تک ان سے بات نہیں کی۔ آپ کی یہ ناراضگی حدیثِ رسول ﷺ کی روشنی میں، اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی قرار دی گئی۔
خلاصہ
سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کا دروازہ جلانے کا واقعہ **سیاسی جبر اور طاقت کے استعمال** کی ایک سیاہ مثال ہے۔ اس کا بنیادی محرک حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بیعت لینا اور انہیں خاموش کرانا تھا۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اہلِ بیت پر آنے والے مظالم کے آغاز کی علامت ہے اور اس نے براہِ راست سیدہ فاطمہؓ کی شہادت کی راہ ہموار کی۔

0 Comments