جنگِ خیبر: حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ اور مرحب کا فیصلہ کن مقابلہ | Jang Khayber | Sher e Khuda Mola Ali as | Islami Jazeerah

حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور مرحب کا مقابلہ

جنگِ خیبر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور مرحب کا مقابلہ

غزوہِ خیبر میں قلعہ قموص کی فتح کے دوران ایک ایسا مقابلہ پیش آیا جو اسلامی تاریخ میں شجاعت اور ایمانی طاقت کی ایک لازوال داستان ہے۔ یہ مقابلہ رسول اللہ ﷺ کے چہیتے صحابی حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور یہودیوں کے سب سے بڑے پہلوان مرحب کے درمیان تھا۔

مرحب کا چیلنج

قلعہ قموص کا محاصرہ جاری تھا اور یہود کا سب سے طاقتور جنگجو مرحب میدان میں نکلا۔ مرحب اپنی جسمانی ساخت، بہادری اور جنگی مہارت کے لحاظ سے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ وہ تکبرانہ انداز میں مسلمانوں کو للکار رہا تھا اور رجز (جنگی اشعار) پڑھ رہا تھا، جس میں وہ اپنی بہادری کا ذکر کر رہا تھا۔

**"قد علمت خیبرُ أنی مرحبٌ، شاکی السلاح، بطلٌ مجرب"**
(خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیاروں سے لیس، تجربہ کار بہادر ہوں۔)

اس کی للکار سے مسلمانوں میں ایک سنسنی پھیل گئی کیونکہ اس کی طاقت سے سب واقف تھے۔ کئی صحابہ کرام اس کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلے، مگر وہ سب مرحب کے سامنے ٹک نہ پائے۔

حضرت علیؓ کا میدان میں آنا

جب مرحب کی للکار کی شدت بڑھ گئی، تو وہ وقت آیا جب رسول اللہ ﷺ نے پرچم اسلام حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد فرمایا۔ آپؓ نے جب میدان میں قدم رکھا تو مرحب کے جواب میں رجز پڑھا، جس میں ایمان اور توکل کی طاقت جھلک رہی تھی۔

**"أنا الذی سمیتنی أمی حیدرة، کلیث غابات کریه المنظرة"**
(میں وہ ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر (شیر) رکھا، گھنے جنگلات کے شیر کی طرح، جس کا منظر بھی ہیبت ناک ہے۔)

یہ مقابلہ ایمان اور کفر کی طاقت کا آخری امتحان تھا۔

تاریخی اور فیصلہ کن ضربت

مرحب اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے درمیان سخت مقابلہ شروع ہوا۔ مرحب نے پوری قوت سے حضرت علیؓ پر حملہ کیا، مگر حضرت علیؓ نے کمالِ مہارت سے وار خالی کر دیا۔ اس کے بعد حضرت علیؓ نے اپنی ذوالفقار نامی تلوار سے ایک ایسی تاریخی ضربت لگائی جس نے مرحب کے سر کو ڈھال سمیت دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔

مرحب کی موت کا اثر یہودیوں کے قلعے میں بجلی کی طرح پھیلا۔ وہ اپنے سب سے بڑے اور طاقتور پہلوان کی شکست دیکھ کر مکمل طور پر حوصلہ ہار گئے۔ مرحب کی شکست قلعہ قموص کی فتح کی پہلی اور سب سے اہم ضمانت بن گئی۔ اس کے فوراً بعد حضرت علیؓ نے قلعے کا دروازہ اکھاڑ دیا اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔

نتیجہ اور اسباق

مرحب اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ مقابلہ اسلامی شجاعت کا ایک روشن باب ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے:

  • **ایمان کی برتری:** دنیاوی طاقت اور جسمانی قوت، ایمانی طاقت اور یقین کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
  • **قیادت کی حکمت:** رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرنا اور صحیح وقت پر صحیح شخص کو قیادت دینا حکمت عملی کا بہترین مظاہرہ ہے۔
  • **علیؓ کی فضیلت:** یہ مقابلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی لازوال بہادری، شجاعت، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کی محبت کا واضح ثبوت ہے۔
جنگِ خیبر: حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ اور مرحب کا فیصلہ کن مقابلہ | Jang Khayber | Sher e Khuda Mola Ali as |  Islami Jazeerah

Post a Comment

0 Comments