غزوہِ خندق کے معجزات: تاریخ کے انوکھے واقعات | سیرتِ نبوی Jang e Khandaq | Jang e Ahzab | Islami Jazeerah

 

غزوہِ خندق کے معجزات: تاریخ کے انوکھے واقعات | سیرتِ نبوی Jang e Khandaq | Jang e Ahzab | Islami Jazeerah

غزوہِ خندق کے معجزات

غزوہِ خندق کے انوکھے معجزات

غزوہِ خندق، جسے غزوہِ احزاب بھی کہا جاتا ہے، اسلامی تاریخ کا وہ اہم باب ہے جہاں مسلمانوں نے انتہائی نامساعد حالات، سخت سردی اور بھوک کا سامنا کیا۔ اس مشکل گھڑی میں اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد اور رسول اللہ ﷺ کے معجزات نے مسلمانوں کے ایمان کو تقویت بخشی۔

کھجوروں کے ایک ڈھیر سے پورے لشکر کی خوراک

جنگ کی تیاری میں مسلمانوں کو کئی دن تک شدید فاقوں اور بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک موقع پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے۔ وہ جلدی سے گھر گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ ہمارے پاس کچھ کھانا ہے؟ ان کی بیوی نے ایک بکری کا بچہ اور تھوڑا سا جو پیش کیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور انہیں کھانے کی دعوت دی۔

رسول اللہ ﷺ نے اس معمولی کھانے کو دیکھ کر پورے خندق کھودنے والے لشکر کو بلا لیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ حیران رہ گئیں کہ اتنا کھانا ہزاروں افراد کو کیسے پورا ہو گا؟ لیکن رسول اللہ ﷺ کی برکت سے وہ کھانا ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ پورا لشکر پیٹ بھر کر کھا چکا تھا اور کھانا پھر بھی بچا ہوا تھا۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا جس نے مسلمانوں کے حوصلے اور ایمان کو نئی زندگی دی۔

سنگلاخ چٹان کا ٹوٹنا

جب مسلمان خندق کھود رہے تھے تو ایک بہت بڑی اور سخت چٹان آ گئی۔ کئی صحابہ کرام نے اسے توڑنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہیں اس کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے خود کدال اٹھائی اور "بسم اللہ" کہہ کر اس پر ضرب لگائی۔ جیسے ہی پہلی ضرب لگی، چٹان سے ایک شعلہ نکلا اور چٹان کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے شام کے محلات دکھائے گئے ہیں۔" دوسری ضرب پر بھی یہی ہوا اور آپ ﷺ نے کہا کہ "مجھے فارس کے محلات دکھائے گئے ہیں۔" تیسری ضرب پر باقی چٹان بھی ریزہ ریزہ ہو گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے یمن کے دروازے دکھائے گئے ہیں۔"

یہ ایک واضح معجزہ تھا جس نے مسلمانوں کو مستقبل کی فتوحات کی بشارت دی۔ یہ ثابت ہوا کہ یہ مشکلات عارضی ہیں اور آخرکار اسلام کو دنیا بھر میں پھیلنا ہے۔

ہوا کا معجزہ اور کافروں کی شکست

محاصرہ طول پکڑنے لگا اور مسلمانوں کا صبر آزمایا جا رہا تھا۔ دوسری طرف، کفار کا لشکر بھی سخت سردی اور طویل انتظار سے تھک چکا تھا۔ اس نازک مرحلے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی غیبی مدد بھیجی۔ ایک سخت آندھی اور طوفان نے کفار کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کے ہانڈیاں الٹ گئیں اور آگ بجھ گئی۔ یہ حالات ایسے تھے کہ کفار کا لشکر خوف زدہ ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔

قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے: "اے ایمان والو! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت فرمائی جب تم پر لشکر چڑھ آئے تھے، تو ہم نے ان پر ہوا اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے نہ دیکھا تھا۔" (سورۃ الاحزاب، آیت 9)۔

نتیجہ

غزوہِ خندق کے معجزات نے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد ضرور فرماتے ہیں۔ ان معجزات نے مسلمانوں کے ایمان کو پختہ کیا اور انہیں یقین دلایا کہ کامیابی صرف اور صرف اللہ کی مدد سے ہی ممکن ہے۔

Post a Comment

0 Comments