جنگ خندق میں مولا علی علیہ السلام کی تاریخی ضربت
غزوہِ خندق، جسے غزوہِ احزاب بھی کہتے ہیں، مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی کٹھن اور آزمائشی وقت تھا۔ دس ہزار کا مسلح لشکر مدینہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھا اور مسلمان شدید سردی اور بھوک میں خندق کی حفاظت پر مامور تھے۔ اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے جنگ کا رخ پلٹ دیا اور مسلمانوں کی فتح کی ضمانت بن گیا۔
عمر بن عبد ود کا چیلنج
قریش کے لشکر میں ایک انتہائی طاقتور اور نامی گرامی پہلوان عمر بن عبد ود بھی موجود تھا۔ اسے ہزاروں جنگجوؤں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ اس نے خندق کے ایک تنگ حصے سے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ چھلانگ لگا کر خندق پار کی اور مسلمانوں کو للکارا۔ اس نے تکبرانہ انداز میں کہا کہ "کیا ہے کوئی جو میری مبارزت قبول کرے؟"
اس کی آواز سن کر مسلمانوں میں ایک سنسنی پھیل گئی کیونکہ اس کی بہادری کا چرچا پورے عرب میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی للکار سنی اور پوچھا کہ اس کا مقابلہ کون کرے گا؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فوری طور پر آگے بڑھنے کی اجازت مانگی، مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں روک لیا۔ تین بار عمر بن عبد ود نے للکارا اور ہر بار حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اجازت طلب کی، اور آخرکار آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔
علی کرم اللہ وجہہ کی مبارزت
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمر بن عبد ود کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں قدم رکھا۔ دونوں کے درمیان مختصر گفتگو کے بعد ایک فیصلہ کن مقابلہ شروع ہوا۔ تلواروں کی جھنکار اور گرد و غبار نے فضا کو ڈھانپ لیا۔
کچھ لمحوں بعد رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے تکبیر کی آواز سنی اور جان گئے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس عظیم پہلوان کو شکست دے دی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے ایک ہی وار سے عمر بن عبد ود کو واصلِ جہنم کر دیا تھا۔
فتح کی ضمانت
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی یہ ضربت ایک عام جنگی کامیابی سے کہیں بڑھ کر تھی۔ یہ ایک ایسی فتح تھی جس نے پورے لشکرِ احزاب کا حوصلہ توڑ دیا۔ ان کے سب سے بڑے پہلوان کی اس طرح کی شکست نے انہیں یہ یقین دلا دیا کہ وہ مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکتے۔
اس ضربت کی اہمیت کو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: "آج علی کی ضربت سارے جن و انس کی عبادت سے افضل ہے۔" یہ اس لیے کہ اس ایک وار نے نہ صرف ایک ظالم کو ختم کیا بلکہ ایک پوری جنگ کا فیصلہ کر دیا، جس نے اسلام کی بقا کو خطرے میں ڈال رکھا تھا۔
نتیجہ
جنگ خندق میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ضربت تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک بہادری کی کہانی نہیں بلکہ اللہ کے ایک ولی کی غیر معمولی شجاعت، رسول اللہ ﷺ پر مکمل ایمان اور اسلام کی سربلندی کے لیے دی گئی قربانی کی مثال ہے۔

0 Comments