کربلا کے بعد کا خطبہ و پیغام
واقعۂ کربلا کے بعد جہاں ایک طرف امام حسینؑ اور ان کے ساتھی شہید ہو چکے تھے، وہیں دوسری طرف اہل بیتؑ کی خواتین، بچوں اور بیمار امام علی ابن الحسینؑ کو قیدی بنا کر کوفہ اور شام لے جایا گیا۔ لیکن کربلا کی شہادت کے بعد اصل معرکہ اب **قلم، زبان اور صبر** کے ذریعے لڑا گیا۔
کربلا کے بعد سب سے مؤثر اور زلزلہ انگیز پیغامات ان **خطبات** کے ذریعے دیے گئے جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا، امام زین العابدینؑ اور دیگر اہل بیتؑ نے قید و دربار میں دیے۔
حضرت زینبؑ کا خطبہ دربارِ کوفہ میں:
جب کوفہ کی عوام نے گریہ و زاری کی تو حضرت زینبؑ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے اہل کوفہ! تمھاری مثال اس عورت جیسی ہے جو مضبوط دھاگے کو خود ہی کھول دے... تمہارے دل کینہ پرور ہیں، تمہاری مثال جھاڑیوں میں اگنے والے کانٹوں کی ہے...‘‘
یہ خطبہ صرف ماتم نہیں تھا بلکہ **سماجی شعور اور سیاسی فہم** کی بلند ترین مثال تھی۔ حضرت زینبؑ نے اہل کوفہ کی منافقت اور غداری کو بے نقاب کیا۔
حضرت زینبؑ کا خطبہ دربارِ یزید میں:
یزید کے دربار میں کھڑی ہو کر، زنجیروں میں جکڑی ہوئی حضرت زینبؑ نے کہا:
’’اے یزید! کیا تُو سمجھتا ہے کہ زمین و آسمان کے کنارے تجھ پر تنگ نہیں ہوں گے؟... خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمارے خون کے ذریعے ہمیں عزت بخشی اور تجھے رسوا کیا۔‘‘
اس خطبے میں حضرت زینبؑ نے نہ صرف یزید کے ظلم کو للکارا بلکہ قیامت تک آنے والوں کو بتا دیا کہ **خاموشی باطل کی جیت ہے، اور حق گوئی حسینیت ہے۔**
امام زین العابدینؑ کا خطبہ مسجدِ اموی دمشق میں:
جب یزید نے امام زین العابدینؑ کو دربار میں بلایا، تو آپؑ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا:
’’اے لوگو! جو مجھے پہچانتا ہے وہ جانتا ہے، اور جو نہیں پہچانتا میں محمد مصطفی ﷺ کا پوتا، علیؑ کا بیٹا، فاطمہؑ کا لخت جگر اور حسینؑ کا فرزند ہوں...‘‘
امامؑ نے چند لمحوں میں یزیدی دربار کو لاجواب کر دیا۔ اس خطبے کے بعد عوام میں غم و غصہ پھیل گیا، اور یزید کو اہل بیتؑ کو رہا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
کربلا کے بعد کا پیغام:
- ❖ حق کو ظلم پر غالب کرنا صرف تلوار سے نہیں، زبان اور صبر سے بھی ممکن ہے۔
- ❖ حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ نے باطل کے ایوانوں کو لرزا دیا بغیر کسی جنگ کے۔
- ❖ یہ خطبات رہتی دنیا تک اہل ایمان کے لیے بیداری اور فہم کا ذریعہ ہیں۔
کربلا ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس کا پیغام ہر دور کے یزید کے خلاف **صدائے حق** کی صورت میں زندہ ہے۔
یہ مضمون کاپی رائٹ فری ہے۔ آپ اسے بلا جھجھک اپنے بلاگ، یوٹیوب، یا تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

0 Comments