کربلا: حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ۔ Islami Jazeerah Karbala Haq Batil Ka Fesla

 

کربلا: حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ Islami Jazeerah Karbala Haq Batil Ka Feslah

کربلا: حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ

کربلا کا واقعہ محض ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ یہ اسلام کے اصولی موقف، قربانی، صبر، استقامت، اور حق پر ڈٹے رہنے کی عظیم مثال ہے۔ 10 محرم 61 ہجری کو نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسینؑ نے اپنے جانثاروں کے ساتھ یزید کے فاسد اور ظالم نظام کے خلاف آواز بلند کی اور شہادت کو قبول کیا لیکن ظلم کے سامنے سر نہ جھکایا۔

امام حسینؑ نے فرمایا: "مثلی لا یبایع لمثله" – "میرے جیسا شخص، تیرے جیسے (فاسق و فاجر) کی بیعت نہیں کر سکتا۔" یہ اعلان اسلام کے سنہرے اصولوں کی حفاظت تھا۔ کربلا میں امام حسینؑ کا قیام درحقیقت اس امت کو جگانے کے لیے تھا کہ دین صرف الفاظ کا نام نہیں، عمل، سچائی اور قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔

کربلا کا پیغام:

  • ❖ کربلا ہمیں حق کے لیے ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے، چاہے ہماری تعداد کم ہو۔
  • ❖ یہ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی بقاء کے لیے جان و مال سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔
  • ❖ امام حسینؑ نے اپنے بچوں، بھائیوں، اور اصحابؓ کو راہِ حق میں قربان کیا لیکن باطل سے سمجھوتہ نہ کیا۔

اہل بیتؑ کا کردار:

حضرت زینبؑ کا صبر، خطبے اور حوصلہ کربلا کے بعد کا سب سے بڑا ہتھیار بنے۔ انہوں نے دربار یزید میں بے خوف ہو کر کہا: "ما رأيتُ إلا جميلاً" – "میں نے (کربلا میں) سوائے حسن و جمال کے کچھ نہیں دیکھا۔"

آج کے دور کے لیے سبق:

آج امت مسلمہ اگر خوابِ غفلت سے بیدار ہونا چاہتی ہے تو کربلا کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا۔ امام حسینؑ کا راستہ وہی راستہ ہے جو قرآن، رسولؐ اور تمام انبیاء کا راستہ ہے — یعنی حق، عدل، صبر، اور قربانی۔

یہ مضمون کاپی رائٹ فری ہے اور آپ اسے Islami Jazeerah بلاگ، یوٹیوب یا دیگر تعلیمی پلیٹ فارمز پر استعمال کر سکتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments