زندانِ شام سے ساداتِ اہلِ بیت علیہم السّلام کی رہائی
واقعۂ کربلا کے بعد جب امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا، تو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی خواتین، بچوں اور امام زین العابدین علیہ السلام کو قید کر کے کوفہ اور پھر شام لے جایا گیا۔ یزید بن معاویہ کے دربار میں اہلِ بیت کی اسیری کا منظر تاریخِ اسلام کا ایک سیاہ باب ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے دربارِ یزید میں دلیرانہ خطابات کے ذریعے باطل کے چہرے سے نقاب ہٹا دی۔ ان خطابات نے عوام کو بیدار کیا اور یزید کے ظلم و جبر کو بے نقاب کر دیا۔ اہلِ شام کو جب حقیقت کا علم ہوا تو اُن کے دلوں میں اہلِ بیت کے لیے ہمدردی اور محبت پیدا ہوئی۔
مسلسل عوامی دباؤ، علمائے دین کی مذمت اور خود یزید کی سیاسی مصلحت کے تحت، اہلِ بیت کو چند ماہ کے بعد رہائی دی گئی۔ رہائی کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے شام چھوڑنے سے پہلے شہدائے کربلا کی قبور کی زیارت کی اور اس ظلم کی یاد کو زندہ رکھا۔
زندانِ شام سے رہائی نہ صرف ایک جسمانی آزادی تھی بلکہ ایک فکری اور روحانی انقلاب کا آغاز بھی تھی۔ اس رہائی نے کربلا کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا، جہاں آج بھی اہلِ بیت علیہم السلام کے صبر، قربانی اور حق گوئی کی مثال دی جاتی ہے۔
آج ہمیں چاہیے کہ ہم اس تاریخی موقع کو صرف ایک یادگار نہ سمجھیں بلکہ اس سے سبق حاصل کریں کہ حق کے راستے پر چلنے کے لیے صبر، استقامت اور قربانی لازم ہے۔

0 Comments