دعوتِ ذوالعشیرہ کیا ہے؟ مکمل تاریخی تفصیل
دعوتِ ذوالعشیرہ وہ تاریخی لمحہ ہے جب نبی کریم حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اللہ کے حکم سے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی طرف بلایا۔ یہ دعوت نبوت کے تیسرے سال پیش آئی، جب تبلیغِ اسلام خفیہ طور پر ہو رہی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اب اس پیغام کو خاندان کے سامنے بھی پیش کیا جائے۔
قرآنی حکم
سورۃ الشعراء کی آیت نمبر 214 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ
"اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرو"
اس آیت کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ نے حضرت علی علیہ السّلام سے فرمایا کہ وہ بنی ہاشم کو دعوتِ طعام پر بلائیں تاکہ انہیں اللہ کا پیغام پہنچایا جا سکے۔
دعوت کا انتظام
حضرت علیؓ علیہ السّلام نے تقریباً 40 افراد کو کھانے پر مدعو کیا جن میں ابو طالب، ابو لہب، حمزہ بن عبدالمطلب اور دیگر قریبی رشتہ دار شامل تھے۔ آپ ﷺ نے کھانے کے بعد خطاب کا ارادہ کیا لیکن ابو لہب کی باتوں اور شور سے بات ادھوری رہ گئی۔
اگلے دن دوبارہ دعوت کا اہتمام کیا گیا۔ کھانے کے بعد نبی کریم ﷺ نے اللہ کی توحید، نبوت اور قیامت کا پیغام پیش کیا اور فرمایا:
"اے بنی عبدالمطلب! خدا کی قسم، میں عرب میں کسی کو ایسا پیغام نہیں دے رہا جیسا تمہیں دے رہا ہوں۔ میں تمہارے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ کون ہے جو میری مدد کرے تاکہ وہ میرا بھائی، وصی اور خلیفہ ہو؟"
حضرت علیؓ علیہ السّلام کی بیعت
تمام سردار خاموش رہے، صرف **حضرت علی علیہ السّلام** نے آگے بڑھ کر کہا: "یا رسول اللّٰہ! میں آپ کی مدد کروں گا، چاہے میری عمر کم ہے، جسم کمزور ہے۔" نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ علیہ السّلام کو گلے لگایا اور فرمایا: "یہ میرے بھائی، وصی اور جانشین ہیں۔"
اہم نکات
- یہ پہلی بار تھا جب اسلام کی دعوت کھلے طور پر خاندان میں پیش کی گئی۔
- ابو لہب نے مذاق اڑایا، جس پر سورۃ المسد نازل ہوئی۔
- حضرت علیؓ علیہ السّلام کی ولایت اور قربت یہاں سب سے پہلے ظاہر ہوئی۔
دعوتِ ذوالعشیرہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کا پہلا کھلا اعلان تھا اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ دین کی تبلیغ کا آغاز قریبی لوگوں سے ہونا چاہیے۔ یہ واقعہ صبر، حکمت اور خانوادگی حکمت عملی کی بہترین مثال ہے۔
اللّٰہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی دعوتی حکمت سے سیکھنے اور اسلام کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

0 Comments