جب حضور ﷺ نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا
حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر جب پہلی وحی نازل ہوئی، آپ ﷺ کو نبوت کا شرف حاصل ہوا، تو اس کے ساتھ ہی ایک عظیم فریضہ آپ کے ذمے آیا: انسانیت کو اللہ کے دین کی طرف بلانا۔ یہ کام نہایت حکمت، صبر اور ثابت قدمی کا متقاضی تھا، کیونکہ مکہ کا معاشرہ شرک، بت پرستی، جاہلیت، اور قبائلی تعصبات میں گھرا ہوا تھا۔
خفیہ دعوت کا دور (نبوت کے پہلے 3 سال)
وحی کے نزول کے بعد، نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے خفیہ طور پر دین اسلام کی دعوت دینی شروع کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مکہ کے سخت مزاج مشرکین کی مخالفت کے بغیر دعوت مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے۔
ابتدائی دنوں میں آپ ﷺ نے اپنے قریبی رشتہ داروں، دوستوں اور مخلص افراد کو اسلام کی دعوت دی۔ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں:
- حضرت خدیجہؓ (آپ کی اہلیہ)
- حضرت علیؓ (چھوٹے عمر کے تھے اور آپ کے گھر میں پرورش پاتے تھے)
- حضرت ابوبکر صدیقؓ (قریش کے معزز تاجر)
- حضرت زید بن حارثہؓ (آزاد کردہ غلام)
حضرت ابوبکرؓ کی تبلیغ سے حضرت عثمانؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور دیگر کئی اہم شخصیات اسلام لائیں۔ یہ دور انتہائی پرامن، مخفی اور بصیرت سے بھرپور تھا۔
دعوتِ ذوالعشیرہ – قریبی رشتہ داروں کو دعوت
جب خفیہ دعوت کے تین سال مکمل ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ
"اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرو"
(سورۃ الشعراء: 214)
نبی کریم ﷺ نے اپنے خاندان والوں کو ایک دعوت پر بلایا اور اسلام کی طرف بلایا، لیکن اکثریت نے انکار کیا۔ صرف حضرت علیؓ نے لبیک کہا۔ اس وقت ابو لہب نے سخت مخالفت کی، جس پر سورۃ المسد نازل ہوئی۔
صفا پہاڑی پر کھلے عام دعوت
کچھ ہی عرصے بعد نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے صفا پہاڑی پر چڑھ کر قریش کے تمام قبیلوں کو دعوت دی۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا:
"اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن آ رہا ہے، تو کیا تم میری بات مانو گے؟"
سب نے کہا: "ہاں، کیونکہ ہم نے تمہیں کبھی جھوٹ بولتے نہیں سنا۔"
آپ ﷺ نے فرمایا: "تو پھر جان لو کہ میں تمہیں ایک بڑے عذاب سے خبردار کر رہا ہوں۔"
اس کے بعد قریش کی مخالفت کھل کر سامنے آئی۔ ابو لہب نے سب سے پہلے تضحیک کی، اور نبی ﷺ پر آوازیں کسیں۔ لیکن آپ ﷺ نے دعوت کا سلسلہ جاری رکھا۔
اسلام کی مخالفت کا آغاز
جیسے ہی اسلام کی دعوت عوام تک پہنچی، مشرکین مکہ کو اپنی سرداری، بت پرستی، اور معاشرتی نظام کو خطرہ محسوس ہوا۔ وہ نبی کریم ﷺ پر طنز، جھوٹے الزامات، سحر و جادو کے طعنے دینے لگے۔ مسلمانوں پر ظلم ہونے لگا:
- حضرت بلالؓ کو گرم ریت پر لٹایا گیا
- حضرت سمیہؓ کو شہید کیا گیا
- حضرت یاسرؓ کو مسلسل اذیت دی گئی
صبر و حکمت کا راستہ
نبی کریم ﷺ نے اس تمام ظلم و ستم کا جواب صبر، اخلاق، اور حکمت سے دیا۔ آپ ﷺ نے کبھی انتقام نہیں لیا بلکہ صرف اللہ سے مدد مانگی اور دعوت کے مشن کو جاری رکھا۔
آپ ﷺ کی تبلیغ نے صرف 13 سال میں ایک چھوٹی سی جماعت کو ایک عظیم امت میں بدل دیا، اور بعد میں یہ پیغام پوری دنیا میں پھیل گیا۔
یہی وہ روشنی تھی جس نے دنیا کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف رہنمائی دی۔

0 Comments