رسول اللّٰہ ﷺ کی تبلیغِ اسلام میں مشکلات اور صبر Islami Jazeerah

 

رسول اللّٰہ ﷺ کی تبلیغِ اسلام میں مشکلات اور صبر Islami Jazeerah

اسلام کی تبلیغ میں رسولِ کریم ﷺ نے کون سی تکالیف اٹھائیں؟ — مکمل تفصیل

حضرت محمد ﷺ نے جب اللہ کے حکم سے لوگوں کو توحید کی دعوت دی تو اُن کے سامنے سخت مخالفت، اذیت، کرب اور مشکلات کا ایک طویل دور شروع ہوا۔ یہ تکالیف نہ صرف ذاتی تھیں بلکہ آپ کے صحابہ، اہلِ بیت اور اہلِ مدینہ پر بھی گِھری رہیں۔ ذیل میں ہم مفصل انداز میں وہ بڑے زخم، آزمایشیں اور تکالیف بیان کر رہے ہیں جو آپ ﷺ اور آپ کی امت نے تبلیغِ اسلام کے دوران برداشت کیں۔

1. طعن و تشنیع، طنز و مزاح

مکہ کے مشرکین نے رسولِ ﷺ کی شخصیت، ان کی باتوں اور پیغام کی شدید تضحیک کی۔ آپ ﷺ کو "ساحر" (جادوگر)، "کاہن" یا "مجنون" کہتے، مذاق اڑاتے اور عوامی طور پر حقِ دعوت کو کم تر سمجھانے کی کوشش کرتے۔

2. سماجی بائیکاٹ اور اقتصادی پابندیاں

جب قریش نے اسلامی پیغام کو خطرہ سمجھا تو انہوں نے بنو ہاشم اور مسلمانوں پر اجتماعی اقتصادی پابندیاں لگا دیں (سوداگری سے روکنا، بازاروں سے نکالنا، رسد بند کرنا)۔ کئی مہینوں تک کھانے پینے اور تجارت تک رسائی محدود رہی — یہ "بنی ہاشم کا محاصرہ" انتہائی سخت تھا اور خاندان پر بھاری گزرا۔

3. جسمانی تشدد اور اذیتیں (صحابہ پر)

تبلیغ کے ابتدائی دور میں بہت سے نئے مسلمان حکمائے قریش کی طرف سے مار پیٹ، قید اور اذیت کا شکار ہوئے۔ مشہور مثالیں:

  • حضرت بلالؓ کو گرم ریت پر لٹایا گیا اور سارا دن اذیت دی گئی۔
  • حضرت سمَیہؓ اور حضرت یاسرؓ جیسے ابتدائی شہداء نے طویل اذیتیں برداشت کیں اور آخرکار شہادت پائی۔
  • متعدد مظلوم مسلمانوں کو روزمرہ کے کاموں، تجارت اور معاشی مواقع سے محروم رکھا گیا۔

4. خاندان اور رشتہ داروں کی مخالفت

نبی کریم ﷺ کو اپنے قریبی رشتہ داروں، بعض اوقات سخت ردِعمل اور ذلت آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے قبیلے میں سے کئی لوگوں نے آپ ﷺ کو ترک کیا، طنز کیا یا سخت مخالفت کی — مثال کے طور پر ابو لہب کی مخالفت اور سورۃ المسد کی نزول والی کہانی مشہور ہے۔

5. ذاتی غم و الم — سالِ حزن (Year of Sorrow)

تبلیغ کے ابتدائی سالوں میں آپ ﷺ نے ذاتی سطح پر گہرا دکھ اٹھایا۔ اس میں سب سے نمایاں دو واقعات تھے:

  • وفاتِ حضرت خدیجہؓ: آپ کی وفادار شریکِ حیات جو صبر، حمایت اور اولین ایمان تھیں؛ ان کا جانا آپ ﷺ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان تھا۔
  • وفاتِ حضرت ابو طالبؓ: جو آپ کے محافظ اور سہارے تھے؛ ان کے انتقال کے بعد آپ ﷺ کی جسمانی اور سیاسی حفاظت میں کمی آئی، جس نے مخالفت کو مزید بڑھا دیا۔

6. جانی خطرات اور قتل کے سازشیں

مکہ کے سرداروں نے رسولِ ﷺ کو خاموش کرانے کے لیے قتل کی منصوبہ بندی بھی کی۔ بعض روایتوں کے مطابق ہجرت؍انتقال کی رات مشرکین نے منصوبہ بنایا تھا کہ وہ نبی ﷺ کو رات کے وقت قتل کر دیں، اسی لیے اللہ کی ہدایت سے آپ ﷺ نے مدینہ ہجرت اختیار کی تاکہ آپ کی جان محفوظ رہے۔

7. ہجرت (Hijrah) کی تکلیفیں

مکہ سے مدینہ کی ہجرت ایک بہت بڑا امتحان تھا۔ رات کی تنہائی، دوستوں اور گھر والوں کو چھوڑنا، نیا شہر اور نیا ماحول — یہ سب روحانی اور جسمانی دونوں طرح کی آزمائشیں تھیں۔ مگر ہجرت نے بالآخر اسلام کو ایک محفوظ سیاسی و معاشرتی مرکز فراہم کیا۔

8. جنگوں کا مقابلہ اور زخمی ہونا

مدینہ میں اسلام کے پھیلنے کے بعد متعدد لڑائیاں پیش آئیں (بدر، احد، خندق وغیرہ)۔ ان جنگوں میں آپ ﷺ بذاتِ خود حصہ لے کر امت کی قیادت فرماتے، متعدد بار آپ ﷺ کو چوٹیں لگیں—مثلاً جنگِ احد میں آپ ﷺ کے دانت ٹوٹے اور آپ کے کندھے میں ضرب لگی۔ یہ سب تکالیف دین کی بقا کے لیے برداشت کی گئیں۔

9. زبانی بدنامی، سازشیں اور نفرت انگیزی

آپ ﷺ پر جھوٹے الزامات، افواہیں اور لوگوں کے دلوں میں شک ڈالنے کی کوششیں جاری رہیں۔ یہ سازشیں کبھی کبھار معاشرتی تقسیم اور سیاسی مشکلات کا سبب بنتیں۔ آپ ﷺ نے ایسی صورتحال میں بھی صبر و حکمت کا مظاہرہ کیا اور بدلے کی بجائے اصلاح کی کوشش کی۔

10. ذاتی فقدانات اور مسلسل جدوجہد

تبلیغِ دین کے چالیس سالہ مشن میں آپ ﷺ نے متعدد عزیز کھوئے — اہلِ خانہ، دوست، اور صحابہ— اور ہر نقصان آپ کے دل پر گہرا اثر کرتا مگر آپ نے اپنے مشن کو ترک نہ کیا۔ آخرکار، آپ ﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پر اتنی عظیم سفاکیوں اور دشمنیوں کے باوجود معاف کر کے اعلیٰ اخلاق کا عملی مظاہرہ فرمایا۔

11. دیگر آزمائشیں (طویل مشقت، نیند کی کمی، مسلسل دعا)

تبلیغ کے سفر میں آپ ﷺ کو بھوک، تھکن، نیند کی کمی، طویل سفر اور راتوں کی عبادت جیسی مسلسل مشقتیں برداشت کرنی پڑیں۔ صحابہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اکثر راتوں میں کھڑے رہ کر عبادت کرتے دیکھا گیا — یہ جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی تکالیف تھیں۔

آخر میں — آپ ﷺ کا صبر، حکمت اور عطوفت

تبلیغِ اسلام کے دوران جو سختیاں اور تکالیف رسولِ کریم ﷺ نے برداشت کیں وہ اس بات کی نشانیاں ہیں کہ آپ ﷺ کا مشن محض ایک ذاتی مقصد نہیں بلکہ انسانیت کے لیے اللہ کی طرف سے انعامِ ہدایت تھا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف تکلیفیں اٹھائیں بلکہ انسانوں کو معاف کرنا، رحم دکھانا، اور اخلاقی انقلاب لانا بھی سکھایا۔ بالآخر آپ ﷺ کی ثابت قدمی اور حکمت نے پورے جزیرۂ عرب کو تبدیل کر دیا۔

اللّٰہ ہمیں رسولِ کریم ﷺ کے دکھوں اور قربانیوں کا شعور عطا کرے اور ہمیں ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Post a Comment

0 Comments