کربلا کے بچوں کا صبر
کربلا کی سرزمین پر جہاں ہر طرف ظلم، پیاس، اور اذیت کا بازار گرم تھا، وہاں ایک ایسا پہلو بھی ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے — وہ ہے **کربلا کے بچوں کا صبر، استقامت اور وفاداری**۔
یہ بچے نہ صرف آلِ رسول ﷺ سے تعلق رکھتے تھے بلکہ ان کے کردار نے رہتی دنیا تک صبر و قربانی کی اعلیٰ مثال قائم کر دی۔ کربلا میں حضرت امام حسینؑ کے ساتھ ان کے کم سن بچے، بھتیجے اور بھانجے بھی موجود تھے، جنہوں نے بھوک، پیاس، اور ظلم سہہ کر صبر کا ایسا مظاہرہ کیا جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا۔
حضرت علی اصغرؑ — صبر کی سب سے معصوم مثال
امام حسینؑ کے چھ ماہ کے بیٹے حضرت علی اصغرؑ کو جب خیموں میں پانی نہ ملا، تو امامؑ نے اُسے میدان میں لے جا کر دشمن سے پانی مانگا، مگر بے رحم فوج نے تیر سے اُس معصوم کو شہید کر دیا۔ امام نے اس عظیم قربانی کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہوئے فرمایا: اِلٰہی خُذ حتّٰی تَرضیٰ (اے اللہ! لے لے یہاں تک کہ تُو راضی ہو جائے)۔
حضرت قاسمؑ — شہادت کی تمنا میں نوجوان دل
حضرت قاسمؑ، جن کی عمر صرف 13 برس تھی، انہوں نے جب امام حسینؑ سے میدانِ جنگ میں جانے کی اجازت مانگی تو امامؑ نے فرمایا: "بیٹا، تم تو میرے بھائی حسنؑ کی نشانی ہو"۔ لیکن قاسمؑ نے صبر و عشقِ شہادت سے بھرپور انداز میں فرمایا: "چچا جان! موت میرے لیے شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔"
بی بی سکینہؑ — صبر کی مظلوم بیٹی
بی بی سکینہؑ امام حسینؑ کی سب سے کم سن بیٹی تھیں۔ خیموں میں جب پانی بند ہوا، تو سکینہؑ نے صبر کا دامن تھامے رکھا۔ جب امامؑ نے رخصت چاہی تو سکینہؑ باپ کے سینے پر سو گئیں، اور جب امام واپس نہ آئے تو قید و بند کی صعوبتوں میں صبر کی انتہا کر دی۔
بچوں کی استقامت — پیغام برائے امت
کربلا کے بچے نہ روئے، نہ گِلے کیے، نہ واویلا کیا — انہوں نے **امام حسینؑ کے مشن کے لیے اپنی جان، آرام، اور بچپن قربان کیا**۔ ان کا صبر ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کی راہ میں چھوٹا بڑا، مرد عورت، بچہ یا بوڑھا — سب برابر ہیں۔
ان بچوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ جب باطل غالب ہو اور حق پامال ہو رہا ہو، تب بھی اگرچہ تمہارے ہاتھوں میں تلوار نہ ہو، لیکن صبر، ایمان، اور حق پسندی تمہیں کامیاب و سرخرو کر سکتی ہے۔
ختم شد

0 Comments