دربارِ یزید میں بی بی زینبؑ کا خطبہ Darbar e Yazeed me Bibi Zainab Ka Khutbah

 

دربارِ یزید میں بی بی زینبؑ کا خطبہ Darbar e Yazeed me Bibi Zainab Ka Khutbah

دربارِ یزید میں بی بی زینبؑ کا خطبہ

تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اللہ کی درود و سلام ہو میرے نانا محمد مصطفیٰ ﷺ اور اُن کی آل پر۔

اے یزید! کیا تُو یہ سمجھتا ہے کہ آج زمین و آسمان تجھ پر تنگ نہیں ہوئے؟ کیا تُو یہ گمان کرتا ہے کہ تُو نے ہم پر ظلم کر کے اللہ کو راضی کر لیا ہے؟ تُو آج اپنی طاقت و حکومت پر خوش ہو رہا ہے اور ہمیں قیدی بنا کر فخر کر رہا ہے؟

تُو گمان کرتا ہے کہ تُو نے ہم پر کوئی برتری حاصل کر لی ہے، تو سن! یہ صرف ایک مہلت ہے جو اللہ نے تجھے دی ہے۔ یاد رکھ! اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ ظالموں کو ہرگز معاف نہیں کرتا۔

کیا تُو سمجھتا ہے کہ تُو نے ہمارے مردوں کو شہید کر کے، ہمیں اسیر بنا کر اور ہماری عزت پامال کر کے، ہمارے مقام کو گھٹا دیا ہے؟ ہرگز نہیں! آج اگرچہ زمانہ ہمارے خلاف ہے اور دشمن خوش ہو رہے ہیں، لیکن عنقریب تُو جان لے گا کہ انجام کن کے لیے بہتر ہے۔

اے یزید! تیرے اعمال اللہ کی نظر میں ہیں، اور قیامت کے دن تجھے اُن کا حساب دینا ہو گا۔ تُو نے ہمارے پاکیزہ خون کو بہایا، ہماری حرمت پامال کی، اور اللہ کے نیک بندوں کو قتل کیا۔ کیا تُو اس پر خوش ہے؟

اے دشمنِ خدا! جو تو نے کیا وہ تیرے غرور اور کفر کی علامت ہے۔ لیکن ہم وہ ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا، ہم آلِ نبیؐ ہیں، ہم اہلِ بیتؑ ہیں جن پر اللہ نے پاکی نازل کی ہے۔

تو نے ہمارے مردوں کو قتل کر کے ہمیں عبرت بنانا چاہا، لیکن یاد رکھ! ہم وہ چراغ ہیں جنہیں کوئی بجھا نہیں سکتا، ہم وہ روشنی ہیں جسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔ ہمارا نام قیامت تک باقی رہے گا، اور تیرا ذکر ذلت کے ساتھ لیا جائے گا۔

میں اللہ سے صبر کی دعا کرتی ہوں، اور اُسی پر بھروسا رکھتی ہوں۔ اے یزید! ہم نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر حق کو زندہ کر دیا ہے۔ تُو جو کچھ کر رہا ہے، وہ تیرے لیے وبالِ جان بنے گا۔

اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں شہادت جیسے مقام پر فائز کیا۔ اور تُو جان لے کہ ہم مظلوم ہیں، اور مظلوم کی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے۔

اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں، اور اُس کی حکمت کو تسلیم کرتی ہوں۔ تُو جتنا چاہے ہمیں مٹانے کی کوشش کر، ہمارا ذکر مٹایا نہ جا سکے گا، اور ہماری قربانی رہتی دنیا تک مثال بنے گی۔

ختم شد

Post a Comment

0 Comments