دربارِ یزید کا منظر
کربلا کے بعد جب اہلِ بیتؑ کو اسیر کر کے شام لے جایا گیا، تو ان کے ساتھ بے حد ظلم و ستم روا رکھا گیا۔ سب سے دل دہلا دینے والا منظر وہ تھا جب انہیں **یزید کے دربار** میں پیش کیا گیا۔ یہ منظر انسانیت، انصاف اور شرافت کے منہ پر ایک طمانچہ تھا۔
جب کاروانِ اسیرانِ کربلا دربارِ یزید میں پہنچا، تو وہاں جشن کی فضا قائم کی گئی تھی۔ یزید اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا اور شام کے درباری، درباری عورتیں اور عوام، سب اس ذلت آمیز منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ مگر اہلِ بیتؑ نے صبر، وقار، اور علم و تقویٰ سے ایسے خطبات دیے کہ **یزید کی محفل ماتم میں بدل گئی**۔
حضرت زینبؑ کا جلالی خطبہ
یزید نے گستاخی کرتے ہوئے امام حسینؑ کے سرِ مبارک کو دربار میں رکھوا دیا، اور اپنی چھڑی سے اس پر ضرب لگائی۔ یہ منظر دیکھ کر بی بی زینبؑ تڑپ اٹھیں اور فرمایا:
"اے یزید! کیا تجھے یہ گمان ہے کہ تُو نے زمین و آسمان کے کنارے ہم پر تنگ کر دیے ہیں، اور ہم کو اسیر بنا کر دربار میں لا کر تو اللہ کے نزدیک مکرم ہو گیا ہے؟"
بی بیؑ نے دربار میں کھڑے ہو کر قرآن کی آیات سے یزید کی حکومت کو باطل ثابت کیا، اور فرمایا کہ تُو صرف چند دن کی دنیا کے فریب میں ہے۔ جلد ہی تُو جان لے گا کہ اصل غالب کون ہے۔
امام زین العابدینؑ کی للکار
دربار میں امام سجادؑ کو بھی بولنے کا موقع دیا گیا۔ امامؑ نے فرمایا:
"اے لوگو! ہمیں پہچانو، ہم کون ہیں۔ ہم وہی ہیں جنہیں اللہ نے پاک قرار دیا، ہم محمد ﷺ کے اہلِ بیتؑ ہیں۔"
امامؑ کے اس تعارف نے دربار میں سناٹا طاری کر دیا۔ لوگوں کو پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ وہ جنہیں قیدی سمجھا جا رہا ہے، وہ درحقیقت نبی اکرم ﷺ کی اولاد ہیں۔
یزید کی شکست
جب بی بی زینبؑ، امام سجادؑ اور دیگر خواتین نے اپنے صبر، استقامت اور دلیرانہ خطابات سے دربار کو لرزا دیا، تو **یزید کا غرور ٹوٹنے لگا**۔ وہ بار بار موضوع بدلنے کی کوشش کرتا رہا مگر اہلِ بیتؑ کی زبانِ حق نے اس کے چہرے سے نقاب کھینچ لیا۔
یزید نے اہلِ بیتؑ کو پہلے مسجدِ دمشق میں اور پھر دربار میں رسوا کرنے کی کوشش کی، مگر قرآن کے وارثوں نے اسے بے نقاب کر دیا۔
پیغامِ کربلا دربارِ یزید میں
دربارِ یزید صرف ایک قیدیوں کی پیشی کا منظر نہیں تھا، بلکہ وہ مقام تھا جہاں **ظالم کو للکارا گیا**، جہاں **حق بلند ہوا اور باطل رسوا**۔ اہلِ بیتؑ نے یہ ثابت کر دیا کہ ان کے پاس طاقت نہ سہی، مگر **ایمان، علم، اور حق کی وراثت** ہے، جسے کوئی بھی زنجیر قید نہیں کر سکتی۔
ختم شد

0 Comments