شہادت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: غم و الم کی داستان | Shahadat Bibi Fatima Zahra | Islami Jazeerah

 

شہادت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: غم و الم کی داستان

شہادت بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

شہادت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: غم و مصیبت کا دور

سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، رسول اللہ ﷺ کی چہیتی بیٹی، زوجہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور سردارِ نوجوانانِ جنت امام حسن اور امام حسین کی والدہ ماجدہ ہیں۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ اگرچہ مختصر تھی لیکن مصیبتوں اور آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔ آپ کی رحلت محض ایک طبعی موت نہیں بلکہ والد کی وفات کے بعد پیش آنے والے غم اور مظلومیت کا نتیجہ تھی، اس لیے اسے **شہادت** کا درجہ دیا جاتا ہے۔

والد کی جدائی کا عظیم صدمہ

بی بی فاطمہ زہراؓ کی مظلومیت کا آغاز آپ کے والد گرامی، رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد ہوا۔ رسول اللہ ﷺ آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور آپ کو "اُم ابیہا" (اپنے باپ کی ماں) کہہ کر پکارتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کا صدمہ بی بی فاطمہؓ کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔

  • **شدید غم:** والد کی جدائی کے بعد آپ نے اس دنیا کی لذتوں کو ترک کر دیا اور غم میں دن رات آہ و زاری کرتی رہیں۔ آپ کی زندگی کا باقی حصہ اسی غم اور والد کی یاد میں گزرا۔
  • **وعدۂ رسول:** رسول اللہ ﷺ نے آپ کو وفات سے قبل یہ بشارت دی تھی کہ آپ ان کے بعد سب سے پہلے ان سے جا ملیں گی۔ یہی بات آپ کے لیے تسلی کا باعث بنی۔

مالی حق سے محرومی

رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد، سیدہ فاطمہ زہراؓ کو ان کے حقِ وراثت سے محروم کر دیا گیا۔ آپ نے والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد، بالخصوص **فدک** کا مطالبہ کیا، جو رسول اللہ ﷺ نے آپ کو عطا کیا تھا، لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا۔

اس حق کے لیے آپ نے دربار میں جا کر بھرپور احتجاج فرمایا اور دلائل دیے، لیکن آپ کی بات نہیں مانی گئی۔ اس واقعے نے بی بی فاطمہؓ کے دل پر گہرا اثر ڈالا اور ان کے غم کو مزید بڑھا دیا۔

گھر پر مصیبت اور دباؤ

سیدہ فاطمہ زہراؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خلافت کے مسئلے پر بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاریخی روایات کے مطابق، بعض لوگوں نے حضرت علیؓ سے بیعت لینے کے لیے آپ کے گھر پر دھاوا بولا اور دروازے کو نقصان پہنچایا۔ یہ واقعہ آپ کی ذات اور عظمت پر ایک براہِ راست حملہ تھا۔ اس سارے معاملے نے آپ کے دل اور جسم پر ایسا زخم لگایا جو آپ کی شہادت کا ایک بڑا سبب بنا۔

مظلومانہ رحلت اور تدفین

ان تمام غموں اور جسمانی اذیتوں کے بعد، سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے والد کی وفات کے تقریباً **تین سے چھ ماہ** بعد، کم عمری میں ہی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ آپ کی شہادت کی اصل وجہ والد کی جدائی، حق سے محرومی اور ان تمام مظالم کو قرار دیا جاتا ہے جو آپ کی ذات پر ڈھائے گئے۔

  • **وصیت:** آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے وصیت فرمائی کہ ان کا جنازہ رات کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور اس میں صرف خاص اور مخلص افراد شامل ہوں۔
  • **مخفی قبر:** آپ کی آخری خواہش کے مطابق، آپ کو رات کی تاریکی میں خاموشی سے دفن کیا گیا اور آپ کی قبر آج تک پوشیدہ ہے۔ یہ عمل آپ کی زندگی بھر کی مظلومیت اور موجودہ حالات سے ناراضگی کا ایک واضح اظہار تھا۔

نتیجہ

سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت حق اور باطل کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کرتی ہے۔ آپ کی زندگی ہمیں صبر، استقامت، اور حق کی خاطر تنہائی کو برداشت کرنے کا درس دیتی ہے۔ آپ کی مظلومانہ رحلت امت مسلمہ کے لیے ایک دائمی المیہ ہے اور ان کے مقام و منزلت کو اجاگر کرتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments