شہادت سیدہ فاطمہ زہراؑ سلام اللّٰہ علیہا رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کا غم Shahadat Bibi Fatima Zahra | Islami Jazeerah

 

شہادت سیدہ فاطمہ زہراؑ سلام اللّٰہ علیہا رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کا غم

شہادت بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت: سبب اور پس منظر

سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی رحلت کوئی طبعی یا معمولی واقعہ نہیں تھی بلکہ یہ آپ کے والد گرامی رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد پیش آنے والے مسلسل غم، دکھ اور جسمانی اذیتوں کا نتیجہ تھی۔ اسی لیے امت کا ایک بڑا حصہ آپ کی رحلت کو **شہادت** کا درجہ دیتا ہے۔ آپ کی شہادت کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں۔

1. والد کی جدائی کا ناقابلِ برداشت صدمہ

رسول اللہ ﷺ کی رحلت سیدہ فاطمہؓ کے لیے کائنات کا سب سے بڑا صدمہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو یہ بشارت دی تھی کہ آپ ان کے خاندان میں سب سے پہلے ان سے جا ملیں گی۔ آپ نے اس صدمے کے بعد دنیا کی رونقوں سے منہ موڑ لیا اور غم میں دن رات آہ و زاری کرتی رہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی ہنسی اور خوشی ختم ہو چکی تھی۔ آپ کا غم ہی آپ کی رحلت کا سب سے بڑا محرک بنا۔

2. حقِ وراثت سے محرومی (فدک کا تنازع)

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد، آپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد، خاص طور پر **فدک** (جو رسول اللہ ﷺ نے آپ کو بطور ہبہ عطا فرمایا تھا) کا تنازع کھڑا ہو گیا۔ سیدہ فاطمہؓ نے اس حق کے لیے پرزور مطالبہ کیا اور دلائل دیے، لیکن آپ کے مطالبے کو قبول نہیں کیا گیا۔

حق سے محرومی کے اس واقعے نے سیدہ فاطمہؓ کے دل پر گہرا اثر ڈالا اور یہ بات آپ کی وفات تک آپ کے دل میں رہی۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ آپ اس معاملے پر اس قدر دلبرداشتہ ہوئیں کہ آپ نے بعض افراد سے وفات تک بات نہیں کی۔

3. گھر پر حملہ اور جسمانی اذیت

خلافت کے معاملے پر بیعت لینے کے دباؤ کے دوران حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے گھر پر ہونے والے واقعات بھی آپ کی شہادت کا ایک بڑا سبب بنے۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب حضرت علیؓ نے بیعت دینے سے انکار کیا تو بعض افراد نے طاقت کے زور پر گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں بی بی فاطمہؓ دروازے کے پیچھے دب گئیں اور انہیں شدید جسمانی چوٹیں آئیں۔

اس تشدد اور صدمے کے نتیجے میں آپ کو اندرونی چوٹیں آئیں اور آپ کی صحت مستقل طور پر خراب ہو گئی۔ یہ مظلومیت آپ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام تک برقرار رہی۔

4. مظلومانہ رحلت اور تدفین کی وصیت

ان تمام غموں اور اذیتوں کے نتیجے میں، سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے والد کی وفات کے تقریباً **تین سے چھ ماہ** کے قلیل عرصے کے بعد دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے وصیت کی کہ ان کا جنازہ رات کے وقت، چپکے سے اٹھایا جائے اور **ان کی قبر کو مخفی رکھا جائے** تاکہ وہ لوگ جن سے آپ ناراض ہیں، وہ آپ کے جنازے میں شریک نہ ہو سکیں۔ یہ آخری وصیت آپ کی زندگی بھر کی مظلومیت اور وفات کے بعد بھی اپنے حقوق پر ڈٹے رہنے کا ایک واضح اظہار تھا۔ اسی وصیت کے مطابق آپ کو رات کی تاریکی میں دفن کیا گیا اور آپ کی قبر کا مقام آج بھی پوشیدہ ہے۔

خلاصہ

سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت ان مصائب، دکھوں اور حق تلفیوں کا نتیجہ تھی جو انہیں رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جھیلنی پڑیں۔ آپ کی زندگی حق اور سچائی پر قائم رہنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے، جبکہ آپ کی مظلومانہ شہادت امت مسلمہ کے لیے ایک دائمی المیہ ہے۔

Post a Comment

0 Comments