حضرت بہلول دانہؒ اور ملکہ زبیدہ کا سبق آموز قصہ
حضرت بہلول دانہؒ، جن کی دیوانگی کے پردے میں عقلِ کامل اور روحانی معرفت چھپی تھی، عباسی دربار کے قریب رہتے تھے، جہاں خلیفہ ہارون الرشید اور اس کی ملکہ زبیدہ کا راج تھا۔ ملکہ زبیدہ ایک نہایت نیک دل اور سخی خاتون تھیں، مگر وہ دنیا کی شان و شوکت میں رہتی تھیں، جبکہ بہلولؒ کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قدر نہ تھی۔ ان دونوں کے درمیان ہونے والا ایک مکالمہ دنیا سے بے رغبتی کا بہترین سبق ہے۔
ملکہ کا خوبصورت محل اور بہلولؒ
ایک مرتبہ ملکہ زبیدہ اپنے شاندار محل کی چھت پر بیٹھی تھیں جو عیش و عشرت کا مظہر تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ حضرت بہلولؒ قریب سے گزر رہے ہیں اور مٹی سے ایک کچا گھر بنا کر کھیل رہے ہیں۔ ملکہ نے ان کو اپنے قریب بلوایا اور نرمی سے کہا:
**ملکہ زبیدہ:** "بہلول! یہ کیا کر رہے ہو؟ کیا تم اب بھی بچوں کی طرح مٹی کے گھر بنا کر کھیلتے ہو؟"
**بہلولؒ:** "میں تو جنت میں اپنا گھر بنا رہا ہوں۔ کیا آپ بھی خریدنا چاہیں گی؟"
جنت کے گھر کا سودا
ملکہ زبیدہ بہلولؒ کی ان باتوں کا مطلب سمجھتی تھیں اور ان کی نیکی اور سادگی کا احترام کرتی تھیں۔ ملکہ نے ازراہِ دلچسپی پوچھا:
**ملکہ زبیدہ:** "اچھا؟ تو تمہارے جنت کے گھر کی کیا قیمت ہے؟"
**بہلولؒ:** "اس کی قیمت ہے **ایک درہم**۔"
ملکہ حیران ہوئیں کہ جنت کا گھر اتنی سستی قیمت پر! انہوں نے خوشی سے ایک درہم حضرت بہلولؒ کو دے دیا اور گھر کے نوکر سے کہا کہ اس معاملے کو لکھ لے تاکہ ریکارڈ رہے۔ بہلولؒ نے وہ درہم لیا اور چلتے بنے۔
اگلے دن کا واقعہ
اگلی صبح ملکہ زبیدہ جب بیدار ہوئیں تو رات کو انہوں نے ایک شاندار **خواب** دیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک نہایت خوبصورت اور عالیشان محل ہے جو سونے چاندی سے سجا ہے اور اس کے دروازے پر لکھا ہے:
**"یہ محل ملکہ زبیدہ کے لیے ہے، جسے بہلول دانہؒ نے ایک درہم کے عوض خریدا۔"**
ملکہ بہت خوش ہوئیں کہ بہلولؒ نے ان کے لیے حقیقی جنت کا گھر بنا دیا ہے۔ انہوں نے سوچا کہ اگر جنت کا گھر ایک درہم میں مل گیا تو کیوں نہ ان سے مزید گھر خریدے جائیں۔
دوسری پیشکش پر بہلولؒ کی حکمت
ملکہ نے بہلولؒ کو بلوا بھیجا اور اس مرتبہ **سو اشرفیوں** سے بھری تھیلی ان کے قدموں میں رکھ دی اور کہا:
**ملکہ زبیدہ:** "بہلول! یہ سو اشرفیاں لے لو اور میرے لیے جنت میں کئی اور گھر خرید دو۔"
اس پر بہلولؒ نے اشرفیوں کی تھیلی کو ہاتھ بھی نہ لگایا اور فرمایا: "اے ملکہ! افسوس، اب میں تمہیں کوئی گھر نہیں بیچ سکتا۔"
ملکہ نے حیران ہو کر وجہ پوچھی: "ایسا کیوں؟ کل تو تم نے ایک درہم میں گھر بیچا تھا؟"
**بہلولؒ:** "ملکہ! کل تم نے **بغیر دیکھے، محض اللہ پر توکل کرتے ہوئے** ایک حقیر درہم میں جنت کے گھر کا سودا کر لیا تھا۔ وہ معاملہ تمہارے **اخلاص** کا تھا۔ لیکن آج جب تم نے محل کو دیکھ لیا اور اس کی قیمت سو اشرفیاں کر دی، تو اب یہ سودا تمہاری **دنیاوی لالچ** بن گیا ہے۔ میں حقیقی سخی کا نمائندہ ہوں اور لالچ کا سودا نہیں کرتا۔"
حکمت آموز نتیجہ
بہلولؒ کی اس بات نے ملکہ زبیدہ کی آنکھیں کھول دیں اور انہیں یہ سمجھ آ گیا کہ اللہ کے ہاں اعمال کی قبولیت قیمت اور مقدار کی بجائے **اخلاص اور نیت** پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ آخرت کی کامیابی کے لیے دنیاوی حرص و طمع کو ترک کرنا اور اللہ کے راستے میں خلوصِ نیت سے خرچ کرنا ہی اصل سودا ہے۔

0 Comments