حضرت بہلول دانہؒ: جنون کی چادر میں چھپی حکمت
حضرت بہلولؒ کا شمار ان صوفیاء اور اولیاء اللہ میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا سے بے نیازی کے لیے بظاہر **جنون** اور **دیوانگی** کا لبادہ اوڑھ لیا، لیکن ان کی ہر بات میں گہری حکمت، حقیقت اور صداقت پوشیدہ ہوتی تھی۔ آپ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں موجود تھے اور آپ کے حکمت بھرے واقعات آج بھی مشہور ہیں۔
بہلول کا ایک مشہور واقعہ
حضرت بہلولؒ، ہارون الرشید کے قریبی رشتہ دار تھے، لیکن دنیا سے دوری اختیار کرنے کے بعد وہ گلیوں اور ویرانوں میں مٹی سے کھیلتے رہتے تھے اور لوگ انہیں دیوانہ سمجھتے تھے۔ ہارون الرشید ان کا بہت احترام کرتا تھا کیونکہ وہ ان کی باطنی کیفیت سے واقف تھا۔
خلیفہ سے ملاقات
ایک روز ہارون الرشید شکار سے واپس آ رہا تھا کہ اس کی نظر ایک ویرانے میں بیٹھے بہلولؒ پر پڑی جو ایک لکڑی پر سوار بادشاہوں کی طرح آوازیں نکال رہے تھے۔ خلیفہ ان کے قریب آیا اور ازراہِ مذاق پوچھا:
**ہارون الرشید:** "بہلول! تم کہاں جا رہے ہو؟"
**بہلولؒ:** "جنت کی طرف۔"
**ہارون الرشید:** "کیا تم مجھے بھی اپنے اس گھوڑے پر سوار کر کے جنت لے جاؤ گے؟"
حکمت بھرا جواب
بہلولؒ نے فوراً اپنا "گھوڑا" (لکڑی) روکا اور کہا:
"بادشاہ سلامت! اگر آپ نے سواری کرنی ہے تو کر لیں، مگر اس کی ایک شرط ہے۔ آپ کو اسے اس طرح تھامنا ہوگا جس طرح میں تھامتا ہوں اور اسے **جنونی انداز** میں چلانا ہوگا، تاکہ لوگ آپ کو دیوانہ سمجھیں۔"
ہارون الرشید ہنس پڑا اور اس نے انکار کر دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے یہ حرکت نہیں کر سکتا۔
اس پر بہلولؒ نے لکڑی کو ہلاتے ہوئے کہا: "یاد رکھو! میرا یہ گھوڑا سستا ہے، دنیا کی بادشاہت اور جاہ و جلال کو چھوڑ کر میرے ساتھ جنت کا سفر کرنا تم سے نہیں ہوگا۔ تم دنیاوی لاج شرم کی قید میں ہو، جبکہ میں دونوں جہانوں کی فکر سے آزاد ہوں۔"
سبق آموز نصیحت
کچھ دیر بعد ہارون الرشید نے حضرت بہلولؒ کو کچھ دینار (سونے کے سکے) پیش کیے تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ بہلولؒ نے یہ سکے لینے سے انکار کر دیا اور کہا:
"بادشاہ سلامت! جس کو اللہ رزق دیتا ہے وہ تمہارے دینار کا محتاج نہیں ہوتا۔ تم اپنی فکر کرو! میرا رزق تو آسمان سے آتا ہے، تم بتاؤ کہ تمہارا رزق کہاں سے آتا ہے؟"
ہارون الرشید نے حیرت سے پوچھا: "تمہارا کیا مطلب ہے؟"
بہلولؒ نے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھا کر زمین پر مارا اور کہا: "تمہارا رزق لوگوں کی محتاجی سے آتا ہے اور میرا رزق اس ذات سے جو تمہیں اور مجھے رزق دیتی ہے۔ دنیا کے لیے ذلیل مت ہو، ورنہ جنت میں تمہیں یہ بادشاہت کام نہیں آئے گی۔"
بہلول دانہ کے لقب کی وجہ
بہلولؒ کا لقب "دانہ" (دانا/عقلمند) اس لیے پڑا کیونکہ ان کی ظاہری دیوانگی کے پیچھے عقلِ کامل، روحانی علم اور دنیا سے مکمل بے رغبتی تھی۔ ان کے جوابات ہمیشہ حقائق اور دین کی گہری سمجھ پر مبنی ہوتے تھے، جو اس دور کے بڑے بڑے عالموں کو بھی حیران کر دیتے۔

0 Comments