حدیثِ قدسی: جس نے فاطمہ کو دکھایا، اس نے اللہ کو دکھایا
اسلام میں اہلِ بیتِ اطہار، خاص طور پر سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ بے حد بلند ہے۔ آپ کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے متعدد فرامین جاری کیے، جن میں سے ایک حدیث کا مفہوم آپ کی ذات کو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذات سے جوڑتا ہے۔
مبارک حدیث کا متن
اس حدیث کا جو مفہوم مختلف روایات میں نقل ہوا ہے، وہ سیدہ فاطمہ زہراؓ کی محبت اور احترام کو امت کے لیے ضروری قرار دیتا ہے:
**"جس نے فاطمہ کو دکھایا، اس نے مجھے دکھایا۔"**
**"اور جس نے مجھے دکھایا، اس نے اللہ کو دکھایا۔"**
**"اور جس نے اللہ تعالیٰ کو دکھایا، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔"**
حدیث کا مفہوم اور تفسیر
یہ حدیث سیدہ فاطمہ زہراؓ کی ذات کو رسول اللہ ﷺ اور بالآخر اللہ تعالیٰ کی ذات سے جوڑ کر ان کی عظمت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔ اس کے معنی گہرے اور کئی پہلوؤں پر مشتمل ہیں:
1. رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کا سبب
**"جس نے فاطمہ کو دکھایا، اس نے مجھے دکھایا۔"** اس کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ چونکہ سیدہ فاطمہؓ رسول اللہ ﷺ کی سب سے چہیتی بیٹی تھیں اور آپ سے آپ کی سب سے زیادہ مماثلت تھی، اس لیے سیدہ فاطمہؓ کو تکلیف پہنچانا درحقیقت رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی تمام مسلمانوں کے لیے دنیا و آخرت میں نقصان کا سبب ہے۔
2. رسول اور اللہ کا تعلق
**"اور جس نے مجھے دکھایا، اس نے اللہ کو دکھایا۔"** یہ فرمان قرآن مجید کے اس اصول کی تائید کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور ان کا احترام درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور احترام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا اور ان کی ذات کو تمام مسلمانوں کے لیے معیار قرار دیا۔
3. ناراضگی کا انجام
**"اور جس نے اللہ تعالیٰ کو دکھایا، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔"** یہ حصہ انتہائی سنگین انجام کی خبر دیتا ہے۔ اگر سیدہ فاطمہؓ کو تکلیف دینے سے رسول اللہ ﷺ ناراض ہوتے ہیں، اور رسول کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی بن جاتی ہے، تو اس ناراضگی کا نتیجہ صرف اور صرف جہنم ہے۔ یہ حصہ امت کو اہلِ بیت سے محبت، احترام اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کی سخت تلقین ہے۔
اہلِ بیت کی عظمت کی دلیل
یہ حدیث ہمیں دو اہم اسباق دیتی ہے:
- **اہلِ بیت کا احترام:** سیدہ فاطمہؓ کی ذات اہلِ بیت کی سب سے اہم رکن تھی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی آل کی محبت اور احترام کو امت کے ایمان کا ایک حصہ قرار دیا۔
- **اطاعتِ رسول کی اہمیت:** رسول اللہ ﷺ کے خاندان کا احترام آپ کی اطاعت کا ایک عملی ثبوت ہے۔ جو لوگ اہلِ بیت سے برا سلوک کرتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے دعوے میں جھوٹے ہیں۔
خلاصہ
یہ حدیث مبارکہ ہمیں سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اس رفعت اور شان کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی آل کا احترام کرے تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کر سکے اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرے۔

0 Comments