ابو لہب اور اس کی بیوی کا بغض — سورۃ المسد کی روشنی میں تاریخی پس منظر اور اسباق

 

ابو لہب اور اس کی بیوی کا بغض — سورۃ المسد کی روشنی میں تاریخی پس منظر اور اسباق

ابو لہب اور اس کی بیوی کا بغض اور رویہ — سورۃ المسد کی روشنی میں

اسلام کی ابتدائی دعوت کے دنوں میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو قریش کے چند بڑے سرداروں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہی میں ایک نام ابو لہب (عبدالعزّى بن عبدالمطلب) اور اس کی بیوی امّ جمیل (اَروى بنت حرب، بہنِ ابو سفیان) کا ہے۔ قرآنِ مجید نے ان دونوں کے رویّے اور انجام کو ہمیشہ کے لیے سورۃ المسد میں محفوظ کر دیا۔

نسب اور مختصر تعارف

  • ابو لہب: قریشِ مکہ کے معزز گھرانے بنو ہاشم سے، مگر دینِ حق کے سرسخت منکرین میں شامل۔
  • امّ جمیل: قریش کے بااثر خاندان بنو امیہ سے تعلق، شہر کی بااثر خواتین میں شمار۔

سورۃ المسد کا نزول اور صریح وعید

تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ (1) مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ (2) سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ (3) وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (4) فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ (5)
(سورۃ المسد 1–5)

ان آیات میں واضح کیا گیا کہ ابو لہب کا مال اور کوششیں اسے عذاب سے نہ بچا سکیں گی۔ اس کی بیوی کو حَمَّالَةَ الْحَطَبِ کہا گیا — مفسرین کے نزدیک اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ وہ بغض و عناد کی آگ بھڑکانے والی اور چغل خوری کے ذریعے فتنے کی لکڑیاں جمع کرنے والی تھی۔

بغض کی بنیاد: صفا پر اعلانِ دعوت اور "تَبّاً لَکَ"

جب نبی کریم ﷺ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر قریش کو مجتمع کر کے کہا کہ وہ ایک بڑی خبر (عذابِ الٰہی) سے خبردار کرتے ہیں، تو ابو لہب نے گستاخانہ انداز میں کہا: “تَبّاً لَكَ” — “تیرا ناس ہو!”۔ اسی پس منظر میں سورۃ المسد نازل ہوئی اور ابو لہب و اہلہا کے انجام کو بیان کیا گیا۔

امّ جمیل کا رویہ — "حَمَّالَةَ الْحَطَبِ"

  • روایات میں آتا ہے کہ وہ نبی ﷺ کی عداوت میں لوگوں کے بیچ نفرت بھڑکاتی، چغلی اور بہتان سے فضا کو زہر آلود کرتی۔
  • بعض روایات کے مطابق وہ رات کے وقت راہوں میں کانٹیدار ٹہنیاں بچھوا دیتی تاکہ آپ ﷺ کو تکلیف ہو — اسی بنا پر اسے "حطب (ایندھن) ڈھونے والی" کہا گیا۔
  • سورۃ المسد نے اس کے گلے میں مسد (کھجور کی رسی/موٹے ریشے) کی علامتی سزا بیان کی — یعنی فتنے کی لکڑیاں ڈھونے والی خود اپنے شر کے پھندے میں جکڑی جائے گی۔

مکہ کی محاذ آرائی: زبان، معیشت اور سماج پر وار

ابو لہب اور اس کے ہم نواؤں نے دعوتِ توحید کو روکنے کو اپنی عزت و معیشت کا مسئلہ بنا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ:

  • زبان سے طعن و تشنیع، تہمت اور بہتان تراشی۔
  • سماجی بائیکاٹ: بنو ہاشم اور مسلمانوں کے خلاف محاصرہ اور دباؤ۔
  • نبی ﷺ کی سچائی کو جادو/کہانت سے تعبیر کر کے عوامی ذہن کو بہکانے کی کوشش۔

قرآنی دلیلیں: منکروں کا فہمِ باطل

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ… (یونس: 38 کے مضامین میں)
اور دوسری جگہ: إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ (المدثر: 24) — یعنی اسے وہ من گھڑت یا پرانا جادو کہتے۔

ایسی آیات یہ بتاتی ہیں کہ حق کے سامنے عناد رکھنے والے دلیل سے زیادہ پروپیگنڈا اور کردار کشی پر تکیہ کرتے ہیں — ابو لہب اور اس کی بیوی اسی ذہنیت کی نمایاں مثال بنے۔

حدیثی اشارات

  • صفا پر اعلان کے موقع پر ابو لہب کے جملے کے بعد نازل ہونے والی وعید (سورۃ المسد) سیرت کی کتب میں مفصل مذکور ہے۔
  • بعض روایات میں آتا ہے کہ امّ جمیل آپ ﷺ کے خلاف بہتان و آزار میں پیش پیش رہی؛ سیرت و تفسیر کی کتابیں اسی کو حمالة الحطب کی شرح میں ذکر کرتی ہیں۔

نوٹ: واقعہ نگاری میں جو روایات سنداً مختلف درجے رکھتی ہیں، انہیں اہلِ سیرت نے مجموعی سیاق میں نقل کیا ہے۔ قطعی نص کے مقام پر قرآنِ مجید کی آیات حجتِ کاملہ ہیں۔

اخلاقی و تاریخی اسباق

  1. حق کے مقابل پروپیگنڈا: جب دلیل کمزور ہو تو منکرین کردار کشی اور تہمت کو ہتھیار بناتے ہیں۔
  2. دعوت کا ادب: رسول اللہ ﷺ نے سخت سے سخت اذیت پر بھی صبر، حکمت اور عفو کا راستہ اختیار کیا۔
  3. قرآن کی پیشین گوئی: سورۃ المسد نے ابو لہب و اہلہا کے انجام کو واضح کیا — تاریخ نے اسی کا اثبات کیا۔
  4. عبرت: نسب، دولت اور سماجی اثرورسوخ حق کے سامنے کچھ نہیں؛ انجام کا دارومدار ایمان و کردار پر ہے۔

خلاصہ: ابو لہب اور اس کی بیوی کا بغض محض خاندانی یا معاشی مسئلہ نہ تھا، بلکہ حق کے مقابل ضد، تکبّر اور عوامی گمراہ کن پروپیگنڈے کی علامت تھا۔ سورۃ المسد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق کے مخالفین وقتی شور مچا لیں، مگر انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے — اور انجام حق کے حق میں ہوتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments