اسلام کی تبلیغ میں کفار کا ردِ عمل اور بغض
جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں توحید، عدل اور اخلاق کا پیغام دیا تو اسے سننے والے ہر کسی کے ردِ عمل یکساں نہ تھے۔ مخصوص طور پر مکہ کے بڑے سرداروں اور مشرکین نے اس دعوت کو اپنے سیاسی، معاشی اور مذہبی مفادات کے خلاف سمجھا اور سخت مخالفت کی۔ ذیل میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ کفار نے کن کن طریقوں سے ردِ عمل ظاہر کیا اور ان کے نتائج کیا رہے۔
1. طنز، تضحیک اور بدنامی
ابتدا میں کفار نے نبی ﷺ اور اُن کے پیغام کو عوامی طور پر مذاق کا نشانہ بنایا۔ آپ ﷺ کو "ساحر"، "جادوگر" یا "کاہن" کہا گیا؛ آپ کے ارشادات کو منحرف کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ عوام میں آپ کی ساکھ کو کم کیا جا سکے۔ یہ بدنامی کا سلسلہ مخصوص طور پر ابو لہب، ابو سفیان اور دیگر سران مکہ نے بڑھایا۔
2. معاشی پابندیاں اور بائیکاٹ
قریش نے ایک منظم حکمت عملی اپنائی جس کے تحت بنو ہاشم اور مسلمانوں کو معاشی و سماجی طور پر الگ کر دیا گیا۔ ان کو بازاروں اور سماجی میل جول سے روک دیا گیا، اور بار بار تجارتی پابندیاں لگائیں گئیں۔ شعبِ ابی طالب میں طویل عرصہ محاصرہ اسی سلسلے کی نمایاں مثال ہے، جس میں کھانے پینے اور رسد تک رسائی محدود کر دی گئی تھی۔
3. جسمانی تشدد اور اذیتیں
ابتدائی مسلمانوں، خاص طور پر غلاموں اور کمزور طبقوں کو سخت تکلیف دی گئی۔ حضرت بلالؓ کو گرم ریت پر لٹا کر اذیت دی گئی؛ حضرت یاسرؓ اور حضرت سمَیہؓ جیسے ابتدائی مسلمان شہادت تک پہنچے۔ یہ جسمانی تشدد لوگوں کو خوفزدہ کر کے اسلام سے دور رکھنے کی کوشش تھی۔
4. سماجی بائیکاٹ اور الگ تھلگ کرنا
کفار نے خاندانوں کو اجتماعی طور پر الگ کر دیا تاکہ سماجی دباؤ سے لوگ اسلام چھوڑ دیں۔ شادیوں، کاروباری تعلقات اور دیگر سماجی رابطوں کو ختم کر کے مسلمانوں کو معاشرتی طور پر تنہا کیا گیا۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایمان والوں کی ہمت توڑنا تھا۔
5. سازشیں اور قتل کے منصوبے
جب ساری کوششیں ناکام رہیں تو بعض سرداروں نے نبی ﷺ کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے۔ کچھ روایات کے مطابق ہجرت کی رات مشرکین نے طے کیا تھا کہ شبِ ہجرت نبی ﷺ کو قتل کر دیا جائے۔ اسی وجہ سے اللہ کی ہدایت سے رسولِ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی جس نے آپ کی جان کو محفوظ کیا۔
6. جھوٹے الزامات اور بدگوئیاں (پراپیگنڈا)
کفار نے افواہیں پھیلائیں، جھوٹے الزام تراش کیے اور مذہبی روایات میں مداخلت کر کے عوام کا ذہن بدلا۔ بعض اوقات آپ ﷺ پر توہین آمیز کہانیاں بنائی گئیں تاکہ آپ کی دعوت کو بے قیمتی بنایا جا سکے۔
7. فریب، رشوت و لالچ
بعض سرداروں نے لوگوں کو اسلام چھوڑنے کے لیے پیسے یا سماجی مراعات کا لالچ دیا، اور بعض بزرگوں کو بھی دھمکیوں یا لالچ سے دین چھوڑنے کے لیے قائل کیا گیا۔ اس طرح معاشی ذرائع کے ذریعے دعوتِ حق کا راستہ روکا گیا۔
8. فرقہ وارانہ اور سیاسی انتشار کرانا
مخالفین نے فرقہ وارانہ، قبائلی اور سیاسی تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد نہ رہے۔ وہ مذہبی رہنماؤں یا قبائلی سرداروں کو بھڑکاتے کہ مسلمان آپس میں الجھ جائیں یا نئے رہنماؤں کی مخالفت کریں۔
9. طائف اور دیگر شہروں میں نفرت انگیزی
طائف کی مثال اس بغض کی عکاسی کرتی ہے جہاں نبی ﷺ نے حمایت تلاش کرنے گئے مگر وہاں کے سرداروں نے نوجوانوں کو اکسا کر آپ ﷺ پر پتھراؤ کروایا۔ یہ ایک نفسیاتی اور جسمانی حملہ تھا جس کا مقصد آپ ﷺ کی ہمت توڑنا تھا۔
10. نتائج اور کفار کی غلط فہمی
کفار کی یہ تمام کوششیں وقتی طور پر مسلمانوں کو رنج پہنچا سکتی تھیں، مگر طویل مدّت میں یہ سب نا کامیاب ہوئیں۔ ظلم اور مخالفت نے اسلام کو چھپنے پر مجبور کیا مگر ہجرت، مدینہ میں مضبوط سیاسی و مذہبی ادارہ قائم کرنے اور اخلاقی استقامت نے دین کو مزید فروغ دیا۔ بالآخر وہی پیغام قوت پکڑ گیا جسے روکا نہیں جا سکا۔
11. رسولِ ﷺ اور صحابہ کا ردِ عمل
نبی کریم ﷺ نے ان تمام اذیتوں کا جواب صبر، حکمت، معافی اور حکمت عملی سے دیا۔ آپ ﷺ نے بدلے یا انتقام کی بجائے اصلاح اور ہدایت کی دعوت جاری رکھی۔ صحابہ کرامؓ نے بھی ثابت قدمی، ایثار اور قربانی دکھائی، جس سے امت مضبوط ہوئی۔
12. ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
- دعوتِ حق کے خلاف نفرت، سازش اور ظلم معمولی باتیں نہیں؛ مگر صبر اور حکمت سے کام لیا جائے تو کامیابی ممکن ہے۔
- معاشی اور سماجی دباؤ کے باوجود ایمان کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
- معاف کرنا اور دوسروں کی ہدایت کے لیے دعا کرنا نبی ﷺ کا طریقہ تھا — یہی اعلیٰ اخلاق ہمیں اپنانا چاہئیں۔
نتیجہ: کفار کا بغض اور مخالفت قابلِ غور تاریخی حقیقت ہے، مگر رسولِ کریم ﷺ اور صحابہ کی صبر و استقامت، حکمت اور قربانی نے اسلام کو مستحکم کیا۔ ہمیں ان سے عبرت لے کر اپنی دعوت اور کردار میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔
اسلام کی تبلیغ میں کفار کا ردّعمل اور بغض
جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو کفارِ مکہ نے اس پیغام کو سختی سے رد کر دیا۔ ان کا بغض اور عناد صرف اس وجہ سے تھا کہ یہ دعوت توحید پر مبنی تھی، جو ان کے باپ دادا کے بت پرستانہ مذہب کے خلاف تھی۔
قرآنی شہادت
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ" (سورۃ الأحقاف: 7)
یعنی جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتیں تو کافر کہتے: یہ تو کھلا جادو ہے۔
کفار کا رویہ
کفارِ مکہ نے اسلام کی دعوت کو دبانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے:
- رسول ﷺ کو جادوگر، شاعر اور کاہن کہنا۔
- صحابہ کرامؓ پر جسمانی تشدد کرنا۔
- مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ۔
- معاشی پابندیاں اور قید و بند۔
حدیث کی روشنی میں
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:
"میں نے دیکھا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے پکڑ لیا اور گلے میں کپڑا ڈال کر اتنا دبایا کہ آپ ﷺ بے ہوش ہونے لگے، یہاں تک کہ حضرت ابوبکرؓ نے آ کر آپ کو بچایا۔" (صحیح بخاری: 3856)
صبر و استقامت کی مثال
ان تمام اذیتوں کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ آپ ﷺ کا رویہ ہمیشہ عفو و درگزر کا تھا، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:
"فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ" (سورۃ الحجر: 85) یعنی درگزر کی خوبصورت روش اختیار کرو۔
نتیجہ
اسلام کی تبلیغ کے ابتدائی دور میں کفار کا ردّعمل سخت اور دشمنی پر مبنی تھا، لیکن نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی صبر و استقامت کے نتیجے میں یہ دین پوری دنیا میں پھیل گیا۔

0 Comments