تعارف
واقعۂ کربلا کے بعد جب اہلِ بیتؑ کو قید کر کے یزید کے دربار میں لایا گیا، تب بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے ایک ایسا تاریخی خطبہ دیا جس نے باطل کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ خطبہ نہ صرف اسلام کی حقانیت کا اعلان تھا بلکہ ظلم کے خلاف سب سے بلند آواز بھی تھی۔
بی بی زینبؑ کا جرات مندانہ خطبہ
جب بی بی زینبؑ کو یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو اس وقت وہ قید میں تھیں، اہلِ بیت کے مرد شہید ہو چکے تھے، بچے یتیم اور خواتین بے چادر تھیں۔ لیکن اس کے باوجود بی بی زینبؑ کا حوصلہ پہاڑ جیسا تھا۔
آپؑ نے اللہ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ ﷺ پر درود کے بعد فرمایا:
اے یزید! کیا تُو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے کامیاب ہو گیا؟ تُو نے ہمیں قیدی بنا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا؟ ہرگز نہیں!
آپؑ نے مزید فرمایا:
ہم اہلِ بیت نبوت ہیں، ہم وحی کے گھر والے ہیں۔ تجھے صرف ظاہری فتح نصیب ہوئی ہے، مگر حقیقت میں تُو شکست خوردہ ہے۔
خطبے کے اہم نکات
- اللہ کی توحید اور رسول ﷺ کی رسالت کا اعلان
- یزید کے باطل عقائد اور اعمال پر شدید تنقید
- اہلِ بیت کی فضیلت و عظمت کا بیان
- قیامت میں یزید کے انجام کا ذکر
- ظالموں کے خلاف سچ کی آواز
خطبے کا مقصد اور پیغام
بی بی زینبؑ کا خطبہ صرف ایک تقریر نہیں، بلکہ ایک تحریک تھا۔ اس نے دنیا کو بتایا کہ:
- حق کے لیے قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے
- عورت اگر باعلم، باوقار اور باحوصلہ ہو تو وہ تاریخ بدل سکتی ہے
- ظالم جتنا بھی طاقتور ہو، سچائی اسے بے نقاب کر دیتی ہے
تاریخی حوالہ جات
یہ خطبہ معتبر اسلامی کتب میں محفوظ ہے جیسے:
- الاحتجاج از طبرسی
- لھوف از سید ابن طاؤوس
- تاریخ طبری
نتیجہ
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا دربار یزید میں دیا گیا خطبہ اسلامی تاریخ کی وہ عظیم دستاویز ہے جو ہر دور کے مظلوم کو حوصلہ، صبر اور حق پر استقامت کا پیغام دیتی ہے۔ ان کا کردار خواتین کے لیے رول ماڈل ہے اور ان کا خطبہ قیامت تک زندہ رہے گا۔
متعلقہ موضوعات
- کربلا کے بعد کا سفر
- حضرت زینبؑ کی زندگی
- شام کا بازار اور اسیرانِ کربلا
- امام حسینؑ کا پیغامِ قربانی

0 Comments