قید خانے میں اہلبیتؑ کے ساتھ سلوک | Ahlulbayt in Captivity


قید خانے میں اہلبیتؑ کے ساتھ سلوک | Ahlulbayt in Captivity

 

قید خانے میں اہلبیتؑ کے ساتھ سلوک | Ahlulbayt in Captivity

تعارف

واقعۂ کربلا صرف میدانِ کربلا تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کے بعد ایک اور دل سوز باب شروع ہوا، جب اہلبیتِ رسول ﷺ کو قیدی بنا کر کوفہ اور شام لے جایا گیا۔ یزید کی حکومت نے اسیرانِ کربلا کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ تاریخ اسلام کا ایک شرمناک پہلو ہے۔

اسیری کی ابتدا

امام حسینؑ کی شہادت کے بعد یزیدی فوج نے خیموں کو آگ لگا دی، اہلِ حرم کی چادریں چھین لی گئیں اور بی بیوں کو قید کر کے کوفہ اور شام کے بازاروں میں رسوائی کے ساتھ گھمایا گیا۔

اہلبیتؑ کے ساتھ اسیری میں شامل تھیں:

  • بی بی زینبؑ بنت علیؑ
  • بی بی ام کلثومؑ
  • حضرت سکینہؑ بنت حسینؑ
  • امام زین العابدینؑ (شدید بیمار حالت میں)

شام کا قید خانہ

یزید نے اہلِ بیتؑ کو دمشق کے قید خانے میں ڈالا، جو سخت، تاریک اور اذیت ناک تھا۔

قید خانے کی خصوصیات:

  • نہ کھڑکیاں تھیں، نہ روشنی
  • زمین پر کانٹے اور پتھر بچھے ہوئے تھے
  • کھانے کے لیے خشک روٹی اور پانی بھی کم دیا جاتا
  • بیماروں کی تیمارداری کا کوئی انتظام نہیں تھا
  • بچے بھوک، پیاس، اور سردی سے نڈھال ہو جاتے تھے

حضرت سکینہؑ کی شہادت بھی اسی قید خانے میں ہوئی، جب وہ مسلسل اپنے بابا حسینؑ کو یاد کرتے ہوئے سو گئیں اور پھر کبھی نہ اٹھیں۔

سلوک کی شدت اور اذیت

یزیدی حکام کا رویہ انتہائی ظالمانہ تھا:

  • قیدیوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا
  • بی بیوں کے ساتھ بے ادبی سے پیش آنا معمول تھا
  • حتیٰ کہ نماز پڑھنے کی اجازت بھی محدود تھی

اہلبیتؑ کا جرم کیا تھا؟ صرف یہ کہ وہ حق پر تھے، نواسۂ رسول ﷺ کے ساتھ تھے، اور یزید کے ظلم کے خلاف تھے۔

بی بی زینبؑ کا کردار

قید خانے میں بھی بی بی زینبؑ نے حوصلے اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ وہ بچوں کو تسلی دیتی تھیں، امام زین العابدینؑ کی خدمت کرتی تھیں اور ہر اذیت کو برداشت کر کے حق کو زندہ رکھا۔

تاریخی حوالے

اہلبیتؑ کی قید کے تفصیلی حالات درج ہیں:

  • لھوف از سید ابن طاؤوس
  • مقتل ابی مخنف
  • تاریخ طبری
  • ناسخ التواریخ

نتیجہ

قید خانے میں اہلبیت علیہم السّلام کے ساتھ ہونے والا سلوک ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جو ہر مسلمان کے دل کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ باطل کتنا بھی طاقتور ہو، حق کو دبایا نہیں جا سکتا، اور اہلِ حق کو آزمائش میں ڈال کر بھی ان کی عظمت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔


Post a Comment

0 Comments