بعثتِ نبوی ﷺ سے پہلے کا عرب
بعثتِ نبوی ﷺ سے قبل عرب کا معاشرہ جاہلیت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ زمانہ "دورِ جاہلیت" کہلاتا ہے کیونکہ اس دور میں علم، اخلاق، عدل اور روحانیت کا شدید فقدان تھا۔ عرب قوم قبائلی عصبیت، جنگ و جدال، اور بت پرستی میں مبتلا تھی۔ معاشرتی، دینی اور اخلاقی زوال نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا تھا۔
معاشرتی حالت
عرب قبائل کی بنیاد پر تقسیم شدہ قوم تھی، جن میں ہر قبیلہ اپنی انا، غیرت اور برتری کے لیے دوسروں سے جنگ کرتا رہتا تھا۔ عورتوں کو نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا، اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینا معمولی بات تھی۔ غلاموں، کمزوروں اور یتیموں کے ساتھ ظلم عام تھا۔
دینی حالت
عرب کے بیشتر لوگ بت پرستی کرتے تھے۔ کعبہ میں 360 سے زائد بت رکھے گئے تھے، جن کی پوجا کی جاتی تھی۔ اگرچہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا دینِ توحید باقی تھا، لیکن اس کی اصل روح کھو چکی تھی۔ صرف چند لوگ "حنفاء" کہلاتے تھے جو توحید پر قائم تھے۔
اخلاقی زوال
جھوٹ، شراب نوشی، قمار بازی، زنا، لوٹ مار، ظلم، اور انتقام عرب معاشرے کا حصہ بن چکے تھے۔ مہمان نوازی، بہادری، اور شعر و ادب ہی کچھ اچھی خصوصیات تھیں جن پر وہ فخر کرتے تھے، مگر ان میں بھی نیت خالص نہ تھی۔
سیاسی و قانونی حالت
عرب میں کوئی مرکزی حکومت یا قانون موجود نہ تھا۔ ہر قبیلہ اپنا قانون خود بناتا تھا۔ طاقتور قبیلے کمزوروں پر ظلم کرتے، اور جنگیں سالہا سال جاری رہتیں۔ عدل و انصاف کا کوئی باقاعدہ نظام نہ تھا۔
معاشی حالت
زیادہ تر لوگ تجارت، چرواہی اور لوٹ مار سے گزر بسر کرتے تھے۔ مکہ تجارتی مرکز تھا، جہاں قریش کے سردار کاروبار کرتے اور قافلے لے کر شام و یمن جاتے۔ مگر مال کی غیر منصفانہ تقسیم نے طبقاتی فرق پیدا کر رکھا تھا۔
بعثتِ نبوی ﷺ سے قبل عرب کا یہ ماحول ایسا تھا کہ دنیا ایک نبی اور ہادی کی شدت سے محتاج تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے پُر فتن دور میں حضرت محمد ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا تاکہ وہ ظلمت کو نور، جاہلیت کو علم، اور فساد کو عدل و انصاف سے بدل دیں۔
یہی وہ پس منظر تھا جس میں نبی کریم ﷺ نے انسانیت کو نئی زندگی عطا کی۔

0 Comments