اصحابِ فیل – ابرہہ کا حملہ اور اللہ کی نصرت کا تاریخی واقعہ Ashab e feel ka Waqia in urdu

 

اصحابِ فیل – ابرہہ کا حملہ اور اللہ کی نصرت کا تاریخی واقعہ   Ashab e feel ka Waqia in urdu

اصحابِ فیل – مکمل قرآنی واقعہ

قرآنِ کریم کی سورۃ الفیل میں ایک عظیم الشان واقعے کا ذکر آیا ہے جسے "واقعہ فیل" کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کی ولادت سے کچھ عرصہ قبل پیش آیا جب یمن کے بادشاہ ابرہہ نے خانہ کعبہ کو گرانے کی ناپاک کوشش کی۔

ابرہہ کی کعبہ پر چڑھائی

ابرہہ یمن کا ایک عیسائی بادشاہ تھا جس نے "قلیس" نامی ایک عظیم گرجا تعمیر کروایا تاکہ لوگ حج کے لیے وہاں آئیں۔ مگر جب اس کی شہرت نہ ہوئی تو اس نے خانہ کعبہ کو گرانے کا ارادہ کیا۔ وہ ایک بڑا لشکر لے کر نکلا جس میں ہاتھی بھی شامل تھے، جن کا سردار ہاتھی "محمود" تھا۔

عبدالمطلبؓ اور قریش کا ردعمل

جب ابرہہ مکہ کے قریب پہنچا تو اس نے قریش کے جانور لوٹ لیے۔ قریش کے سردار عبدالمطلبؓ، جو نبی کریم ﷺ کے دادا تھے، ابرہہ سے ملنے گئے اور اپنے اونٹ واپس مانگے۔ ابرہہ نے حیرت سے پوچھا کہ تم اپنے خدا کے گھر کے لیے فکرمند نہیں؟ عبدالمطلبؓ نے جواب دیا: "میں اونٹوں کا مالک ہوں، کعبہ کا مالک اللہ ہے، وہی اس کی حفاظت کرے گا۔"

اللہ کی طرف سے عذاب

جب ابرہہ کا لشکر کعبہ کی طرف بڑھا تو اللہ تعالیٰ نے ابابیل نامی پرندے بھیجے جو اپنے پنجوں اور چونچوں میں سنگریزے لیے ہوئے تھے۔ ہر پتھر اللہ کے حکم سے مخصوص دشمن پر گرتا اور اُسے جلا کر راکھ کر دیتا۔ پورا لشکر تباہ ہو گیا، اور ابرہہ بھی ہلاک ہوا۔

یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور کعبہ کی حرمت کی عظیم مثال ہے۔ اللہ نے بغیر کسی انسانی مدد کے اپنی عبادت گاہ کی حفاظت فرمائی۔ یہی واقعہ اہلِ مکہ کے دلوں میں اللہ کی عظمت اور قدرت کا زندہ ثبوت بن گیا۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ اُسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

Post a Comment

0 Comments