۔
بی بی زینبؑ کا ابن زیاد کے دربار میں خطبہ – جرات و ایمان کی لازوال مثال
تمہید:
کربلا کی جنگ میں امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد، اہلِ بیتؑ کے زندہ بچ جانے والے افراد کو قیدی بنا کر کوفہ لایا گیا۔ ان میں امام زین العابدینؑ، بی بی زینبؑ، اور دیگر خواتین و بچے شامل تھے۔ قیدیوں کو ابن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا، جہاں بی بی زینبؑ نے ایسا خطبہ دیا جس نے وقت کے ظالموں کے ایوان ہلا دیے۔
🔹 دربار کا منظر:
ابن زیاد، جو یزید کا گورنر تھا، اپنی ظاہری جیت پر غرور میں مبتلا تھا۔ اس کے سامنے شہداء کے سر، خاص طور پر امام حسینؑ کا سرِ اقدس، لایا گیا۔ اہلِ بیتؑ کو زنجیروں میں جکڑ کر دربار میں پیش کیا گیا۔
ابن زیاد نے گستاخی کرتے ہوئے پوچھا:
"زینب! تم نے دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بھائی اور اہلِ خاندان کے ساتھ کیا کیا؟"
🔹 بی بی زینبؑ کا جواب:
بی بی زینبؑ نے بلند حوصلگی اور یقینِ کامل کے ساتھ فرمایا:
"ما رَأَیتُ إلّا جَمیلاً"
(میں نے خدا کے حسین بندوں کی قربانی کو صرف خوبصورتی ہی دیکھا ہے۔)
"یہ لوگ جن پر تم نے ظلم کیا، انہوں نے شہادت کو گلے لگایا۔ انہوں نے اسلام کو زندہ کیا۔ تم سمجھتے ہو کہ تم نے ہمیں شکست دی؟ نہیں! اصل کامیابی ان کی ہے جنہوں نے دین پر جان دے دی۔"
🔹 خطبہ کی تفصیل:
بی بی زینبؑ نے نہ صرف واقعۂ کربلا کی حقیقت بیان کی بلکہ ابن زیاد کی بے انصافی اور ظلم کو بھی بے نقاب کیا۔ اُن کے الفاظ میں نہ خوف تھا، نہ لالچ۔ اُنہوں نے فرمایا:
"اے ابن زیاد! تیری چالاکیاں صرف اسی وقت تک ہیں جب تک اللہ چاہے۔ جلد ہی تو اپنے انجام کو پہنچے گا۔"
🔹 اہلِ دربار پر اثر:
یہ خطبہ سن کر دربار میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ ابن زیاد لاجواب ہو گیا۔ کسی قیدی عورت کی طرف سے اتنی جرات اور عقل مندی سے دیے گئے جواب نے درباریوں کو بھی حیران کر دیا۔ یہ خطبہ نہ صرف مظلوم کی آواز تھا بلکہ قیامت تک کے ظالموں کے خلاف ایک گواہی بھی بن گیا۔
🔹 خطبے کا پیغام:
صبر اور استقلال کی بلند ترین مثال
حق بات کہنے کا حوصلہ، چاہے ظالم کے سامنے کیوں نہ ہو
اسلام کے دفاع اور حق کی گواہی
کربلا کے بعد بھی جہاد جاری رہا، زبان کے ذریعے
🔚 اختتامیہ:
بی بی زینبؑ کا ابن زیاد کے دربار میں خطبہ صرف ایک تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ ہر دور کی مظلوم عورتوں اور حق کے علمبرداروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اہلِ بیتؑ نہ صرف تلوار سے بلکہ زبان اور علم سے بھی ظالمو
ں کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔

0 Comments