تمہید:
10 محرم الحرام 61 ہجری کو کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں نے دین اسلام کی بقا کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ لیکن یہ قربانی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہ رہی، بلکہ اس کے بعد امامؑ کے اہلِ خانہ کو اسیری کی صورت میں ایک اور کرب سے گزرنا پڑا۔
🔹 اسیری کا آغاز:
امام حسینؑ کی شہادت کے بعد یزیدی لشکر نے ان کے اہلِ بیت کو قیدی بنا لیا۔ ان میں خواتین، یتیم بچے، اور امام زین العابدینؑ شامل تھے۔ قیدیوں کو رسیوں میں جکڑ کر اونٹوں پر سوار کیا گیا۔ انہیں اس حالت میں کوفہ لے جایا گیا کہ ان کے سروں سے چادریں چھین لی گئیں اور ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا۔
🔹 کربلا سے کوفہ تک کا راستہ:
یہ سفر تقریباً 75 کلومیٹر پر مشتمل تھا، مگر اسے جان بوجھ کر لمبا کیا گیا تاکہ اہلِ بیت کو کوفہ کے بازاروں اور گلیوں سے گزارا جائے اور یزید کی "فتح" کو عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ راستے بھر امام حسینؑ کے مبارک سر کو نیزے پر بلند کر کے آگے لے جایا گیا۔
🔹 کوفہ میں داخلہ:
کوفہ پہنچنے پر سادات کو ابن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا۔ ابن زیاد نے جناب زینبؑ اور امام زین العابدینؑ سے گستاخانہ انداز میں گفتگو کی، جس پر انہوں نے انتہائی بصیرت اور دلیری سے جواب دیا۔ جناب زینبؑ نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور اہل کوفہ کی بے وفائی پر شدید تنقید کی۔
🔹 جناب زینبؑ کا خطبہ:
جناب زینبؑ نے کوفہ میں ایک تاریخی خطبہ دیا، جس میں آپ نے اہل کوفہ کو آئینہ دکھایا اور بتایا کہ انہوں نے کس طرح نواسہ رسولؐ کے ساتھ غداری کی۔ ان کا خطبہ آج بھی عدل، حق گوئی اور استقامت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
🔹 عوام کا ردعمل:
جب اہل کوفہ نے امام حسینؑ کے سر اقدس کو نیزے پر اور ان کے اہل خانہ کو قیدی کی صورت میں دیکھا تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ مگر ندامت کا یہ اظہار امامؑ کی شہادت کے بعد بے فائدہ تھا۔
🔹 پیغامِ کربلا:
کربلا سے کوفہ تک کا سفر صرف ایک قافلے کی نقل و حرکت نہیں تھی، بلکہ یہ ظلم کے خلاف صدائے حق اور صبر و استقامت کا زندہ ثبوت تھا۔ اس سفر نے یزیدی حکومت کے چہرے سے نقاب ہٹا دیا اور امام حسینؑ کا پیغام دنیا بھر میں پھیلایا۔
🔚 اختتامیہ:
کربلا سے کوفہ تک کا یہ سفر رہتی دنیا تک انسانیت، صبر، تقویٰ، اور عدل کی روشنی بکھیرتا رہے گا۔ اہلِ بیتؑ کی قربانیاں ہر دور کے مظلوموں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

0 Comments