واقعہ کربلا: قربانی، صبر اور حق کی جیت کی داستان

واقعہ کربلا: قربانی، صبر اور حق کی جیت کی داستان



اسلام کی تاریخ میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو نہ صرف امت مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بنے۔ ان میں سب سے نمایاں اور دل کو ہلا دینے والا واقعہ” کربلا “کا واقعہ ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں تھی، بلکہ ایک نظریے، حق اور باطل کے درمیان تصادم کی روشن مثال ہے۔

🌙 پس منظر

واقعہ کربلا سن 61 ہجری میں پیش آیا، جب یزید بن معاویہ نے خلافت پر قبضہ کر کے بیعت طلب کی۔ اور اپنی شریعت بنانے لگا۔ اور مسلمانوں پر ظلم اور نا انصافیاں شروع کی۔ خانہ کعبہ کی توہین کی۔ تو پھر امام حسین علیہ السلام نے اس کے ظلم، فتنہ اور دین کی بربادی کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے حق کی حمایت اور ظالم حکومت کے خلاف قیام کا راستہ چنا۔

🕋 امام حسین علیہ السلام کا سفر

جب امام حسین علیہ السّلام کو جبراً بعیت کے لئے مجبور کیا گیا۔ تو پھر مجبوراً امام حسین علیہ السّلام کو مدینہ منورہ چھوڑنا پڑا۔ اپنے نانا کا مدینہ چھوڑنا پڑا۔
امام حسین علیہ السّلام نے 28 رجب المرجب رات کے وقت اپنے سادات کا قافلہ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا۔
لیکن خانہ کعبہ میں بھی امام حسین علیہ السّلام کو شہید کرنے کے لئے یزیدی فوج پہنچ گئی۔ امام حسین علیہ السّلام نے یہ دکھا کہ یہ خانہ کعبہ امن کی جگہ ہے اس یہاں پر خون نہیں بہنا چاہئیے۔ امام حسین علیہ السّلام مکہ سے بھی قافلہ نکالا اور کوفہ سے امام حسین علیہ السّلام کے پاس خطوط آنے لگے۔
تو امام علیہ السّلام نے حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کو اپنا سفیر بنا کر کوفہ کی طرف روانہ کیا تاکہ وہاں حال معلوم کر سکے۔ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام جب کوفہ پہنچے تب کوفہ والوں نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ بعیت کی۔ یہ خبر جب نعمان بن بشیر جو اس وقت کوفہ کا گورنر تھا۔ اس نے دیکھا کہ میری چال نہیں چل سکتی تو نعمان بن بشیر نے یزید کو خط لکھا کہ وہ عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر بناکر بھیجے کیوں کہ ابن زیاد مکر و فریب اور چالاکی اور سیاست کو خوب جانتا تھا۔ جب ابن زیاد کوفہ پہنچا تو سارا معاملہ الٹا ہو گیا۔ ایک ہی دن میں ابن زیاد نے ایسا چکر چلایا کہ جو مجمع مغرب کے وقت حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ تھا وہ صبح کی نماز تک ایک بھی رہا۔ حضرت مسلم بن عقیل کوفہ کی گلیوں میں تن تنہا رہ گئے۔ اور جب ابن زیاد کے لشکر نے حضرت مسلم بن عقیل کو گھیر لیا تب مسلم بن عقیل اکیلے ہی تمام یزیدی فوج جہنم واصل کیا۔ یزیدی لشکر نے بڑی چالاکی سے حضرت مسلم بن عقیل کو گرفتار کر لیا۔ اور ابن زیاد ملعون نے کوفہ بڑی عمارت سے حضرت مسلم بن عقیل کو نیچے دھکیل دیا۔ اور یوں حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کی شہادت ہوئی ۔
اور جب امام حسین علیہ السّلام کو کوفہ والوں کی غداری کی خبر ملی تو امام علیہ السّلام نے کربلا کا رخ کیا۔ اور 2 محرم الحرام کو کربلا پہنچے۔ نہر فرات پر خیمے ⛺ نصب ہوئے۔
اور جب یزید ملعون کا کربلا پہنچا۔ 3 محرم الحرام کو یزیدیوں نے امام حسین علیہ السّلام کے خیمے نہر فرات سے اکھاڑ دیئے۔
اور 7 محرم الحرام کو امام حسین علیہ السّلام کا پانی بند کر دیا گیا۔

⚔️ یومِ عاشور

10 محرم الحرام، یوم عاشور کو امام حسینؑ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے عظیم قربانی دی۔ اُنہوں نے ظاہری شکست کو قبول کیا مگر باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ حضرت علی اکبر علیہ السّلام، حضرت عباس علمدار علیہ السلام، حضرت قاسم بن امام حسن علیہ السّلام اور چھوٹے علی اصغرؑ علیہ السلام جیسے معصوموں کی شہادتیں تاریخ کے اوراق میں سنہری الفاظ سے لکھی گئیں۔
📢 پیغام کربلا
واقعہ کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ:
حق کے لیے کھڑے ہونا چاہیے، چاہے تعداد کم ہی کیوں نہ ہو
ظلم کے سامنے خاموشی بھی ایک جرم ہے
عزت کی موت، ذلت کی زندگی سے بہتر ہے
یہ قربانی رہتی دنیا تک مظلوموں کی آواز بن گئی۔
📌 نتیجہ
کربلا صرف مسلمانوں کی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی تاریخ کا ایک روشن مینار ہے۔ امام حسینؑ علیہ السلام کا پیغام آج بھی ہر ذی شعور انسان کے دل میں روشنی بکھیرتا ہے۔ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا اور حق کا علم بلند رکھنا، یہی حسینیت ہے۔

لبیک یا حسین علیہ السّلام



Post a Comment

0 Comments