بازارِ شام میں اہلبیتؑ پر ظلم و ستم
جب واقعۂ کربلا پیش آیا تو امام حسین علیہ السّلام اور ان کے اصحاب کو شہید کر دیا گیا، اور ان کے اہلِ خانہ، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے، کو قیدی بنا کر یزید کے دربار کی طرف روانہ کیا گیا۔ ان قیدیوں کا پہلا بڑا ٹھکانہ کوفہ اور پھر شام کا دارالحکومت دمشق بنا۔ دمشق کے بازار میں اہلبیتؑ پر جو ظلم و ستم روا رکھا گیا، وہ اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
قیدیوں کا شام میں داخلہ
جب قافلۂ اسراء دمشق پہنچا تو انہیں شہر میں عام لوگوں کے سامنے ایک تماشے کی طرح پیش کیا گیا۔ ان کی حالت نہایت تکلیف دہ تھی:
زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے
چہروں پر گرد و غبار
بچے بھوک اور پیاس سے نڈھال
خواتین کے سروں سے چادریں چھینی جا چکی تھیں
یہ سب کچھ اسلامی خلافت کے نام پر ہو رہا تھا، جہاں نواسۂ رسول ﷺ کے خاندان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔
بازار شام کا منظر
روایات میں آتا ہے کہ جب قیدیوں کو بازارِ شام سے گزارا گیا تو لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ خارجی ہیں جنہوں نے خلیفہ کے خلاف بغاوت کی۔ عام لوگ لاعلم تھے، وہ سمجھتے رہے کہ یہ دین کے دشمن ہیں، جب کہ حقیقت میں یہ خاندانِ رسالت ﷺ تھا۔
سیدہ زینبؑ اور امام سجادؑ نے اپنے خطبات کے ذریعے حقیقت کو آشکار کیا
لوگوں نے جب پہچانا کہ یہ رسول ﷺ کے خاندان سے ہیں، تو وہ رونے لگے اور یزید پر لعنت کرنے لگے
مگر بازارِ شام میں ان پر آوازیں کسنا، طعنہ دینا، اور پتھر مارنا معمول بن چکا تھا
یزید کا دربار اور اہلبیتؑ کا وقار
یزید نے اپنے دربار میں ان قیدیوں کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ وہاں:
امام سجادؑ نے توحید، نبوت اور امامت پر خطبہ دیا
سیدہ زینبؑ نے اپنے پُرجلال انداز میں یزید کو للکارا
دربار میں موجود بہت سے افراد یزید کے مظالم پر خاموش نہ رہ سکے
یہ خطبات وہ turning point بنے جنہوں نے اہلِ شام کی آنکھیں کھول دیں۔
ظلم کے نتائج اور تاریخ کا فیصلہ
بازارِ شام میں جو مظالم ہوئے وہ وقتی طاقت اور جبر کی ایک علامت تھے، مگر:
اہلبیتؑ کا صبر، تقویٰ، اور کردار قیامت تک کے لیے مثال بن گیا
یزید اور اس کے پیروکاروں کو تاریخ نے لعنت زدہ قرار دیا
بازارِ شام کی دیواریں آج بھی گویا گواہ ہیں ان مظالم کی
نتیجہ
بازار شام میں اہلبیتؑ پر ہونے والا ظلم صرف چند دنوں کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ حق و باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ جس طرح امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں حق کا علم بلند رکھا، اسی طرح سیدہ زینبؑ اور امام سجادؑ نے بازارِ شام اور یزید کے دربار میں اپنے کردار اور کلام سے ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔
یہ واقعہ ہر مسلمان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اگرچہ باطل وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر حق ہی ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

0 Comments