خیبر شکن، حیدر کرار مولا علی علیہ السلام کی شجاعت
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذات جہاں علم و تقویٰ کا پیکر ہے، وہیں آپ کی شجاعت اور بہادری تاریخِ اسلام کا درخشاں باب ہے۔ آپ کو دو بڑے القابات سے یاد کیا جاتا ہے: "حیدر کرار" اور "خیبر شکن"۔ یہ دونوں القاب غزوہ خیبر میں آپ کے مثالی کردار اور غیر معمولی قوت ایمانی کی عکاسی کرتے ہیں۔
حیدر کرار: شیر کی طرح حملہ آور
**"حیدر"** عربی زبان میں شیر کو کہتے ہیں، اور **"کرار"** کا مطلب ہے بار بار حملہ کرنے والا یا پلٹ کر حملہ کرنے والا۔ آپ کو یہ لقب میدانِ جنگ میں اس وقت ملا جب آپ دشمن پر شیر کی طرح حملہ کرتے تھے اور کبھی پیٹھ نہیں دکھاتے تھے۔ اس لقب کا واضح اظہار غزوہ خیبر میں ہوا۔
جب یہودیوں کے سب سے بڑے بہادر مرحب نے رجز خوانی کی تو حضرت علی علیہ السلام نے اپنے رجز میں فرمایا تھا:
**"أنا الذی سمیتنی أمی حیدرة، کلیث غابات کریه المنظرة"**
(میں وہ ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر (شیر) رکھا، گھنے جنگلات کے شیر کی طرح، جس کا منظر بھی ہیبت ناک ہے۔)
خیبر شکن: ناقابلِ تسخیر قلعہ توڑنے والے
**"خیبر شکن"** کا مطلب ہے خیبر کو توڑنے والا۔ یہ لقب آپ کو غزوہ خیبر کے قلعہ **قموص** کو فتح کرنے کے بعد ملا۔ یہ قلعہ یہودیوں کا سب سے مضبوط گڑھ تھا اور کئی دن کی کوششوں کے باوجود مسلمان اسے فتح نہیں کر پائے تھے۔
- **رسول اللہ ﷺ کا تاریخی اعلان:** جب محاصرہ طویل ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کل وہ عَلم اس شخص کو دیں گے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔
- **فتح کی ضمانت:** اگلے دن، رسول اللہ ﷺ نے بیمار آنکھوں پر لعاب دہن لگانے کے بعد عَلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد فرمایا۔
- **قلعے کا دروازہ:** میدانِ جنگ میں جب آپ کی ڈھال چھوٹ گئی، تو آپ نے بڑھ کر قلعہ قموص کا بھاری لوہے کا دروازہ اکھاڑ دیا اور اسے اپنی ڈھال بنا لیا۔ یہ عمل آپ کی جسمانی اور ایمانی طاقت کا عظیم معجزہ تھا۔
مرحب سے فیصلہ کن مقابلہ
قلعہ قموص کی فتح سے قبل حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مقابلہ یہودیوں کے سب سے بڑے پہلوان **مرحب** سے ہوا۔ مرحب کو شکست دینا اس قلعے کی فتح کی پہلی کنجی تھی۔ حضرت علیؓ نے تلوار ذوالفقار سے مرحب کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا، جس کے نتیجے میں یہودیوں کا سب سے بڑا حوصلہ ٹوٹ گیا اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس ایک کارنامے نے پورے غزوہ کا فیصلہ کر دیا۔
نتیجہ
مولا علی علیہ السلام کی ذات "شیر خدا" اور "خیبر شکن" کے القاب کی حقیقی مصداق ہے۔ آپ کی شجاعت صرف تلوار کی طاقت نہیں بلکہ ایمان کی وہ قوت تھی جو بڑے سے بڑے کفر کے پہاڑ کو توڑنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ غزوہ خیبر کی فتح آپ کی لازوال بہادری کا وہ ثبوت ہے جو ہمیشہ اسلام کی کامیابیوں کی یاد دلاتا رہے گا۔

0 Comments