جنگِ خیبر سے حاصل ہونے والی عظیم غنیمت
جنگِ خیبر مسلمانوں کے لیے محض ایک فوجی فتح نہیں تھی، بلکہ یہ ایک اقتصادی اور مالی انقلاب کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی۔ خیبر، جو اپنی زرخیز زمینوں اور کھجوروں کے باغات کی وجہ سے مشہور تھا، کی فتح کے بعد مسلمانوں کو جو غنیمت حاصل ہوئی، اس نے اسلامی ریاست مدینہ کی اقتصادی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے مستحکم کر دیا۔
خیبر کی غنیمت کی نوعیت
جنگِ خیبر کی غنیمت میں صرف سونا چاندی اور ہتھیار شامل نہیں تھے، بلکہ اس میں سب سے قیمتی اثاثہ **زرخیز زمینیں اور باغات** تھے۔
- **زرعی زمینیں:** خیبر میں کھجوروں کے وسیع باغات، زیتون کے درخت اور فصلیں کاشت کرنے کے لیے بہترین زمینیں موجود تھیں۔
- **خوراک کا ذخیرہ:** قلعوں میں گندم، جو، کھجوریں اور دیگر اشیائے خوراک کے بڑے ذخائر دستیاب تھے، جس نے مسلمانوں کی فوری ضروریات کو پورا کیا۔
- **دیگر اموال:** یہودیوں کے زیرِ استعمال جنگی ساز و سامان، اسلحہ، گھریلو اشیاء اور کچھ نقد مال بھی غنیمت میں شامل ہوا۔
غنیمت کی تقسیم کا اصول
اسلامی قوانین کے مطابق غنیمت کو اصولاً پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی غنیمت کی تقسیم بھی اسی اصول کے تحت فرمائی:
- **خمس (پانچواں حصہ):** غنیمت کا پانچواں حصہ (20 فیصد) اللہ اور اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مختص کر دیا گیا تاکہ اجتماعی اور فلاحی کاموں پر خرچ ہو سکے۔
- **باقی غنیمت:** بقیہ چار حصے (80 فیصد) مجاہدین میں تقسیم کیے گئے جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ تقسیم کرتے وقت خاص حکمتِ عملی اپنائی۔ آپ ﷺ نے سوار (گھوڑے والے) کو تین حصے (ایک حصہ مجاہد کے لیے اور دو حصے گھوڑے کے لیے) اور پیادہ (پیدل) مجاہد کو ایک حصہ عطا فرمایا۔
زرعی زمینوں کا منفرد انتظام
چونکہ خیبر کی زمینیں بہت وسیع اور زرخیز تھیں اور مسلمانوں کے پاس ان کی دیکھ بھال کے لیے کافی افراد نہیں تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان زمینوں کو یہودیوں کے پاس ہی رہنے دیا تاکہ وہ اس پر کام کریں۔
یہودی ان زمینوں پر محنت کریں گے، اور اس کی پیداوار کا نصف حصہ مسلمانوں کو دیں گے، جبکہ نصف حصہ وہ خود رکھیں گے۔ یہ انتظام **مزارعت** (فصل کی بٹائی) کا ایک کامیاب ماڈل تھا جس سے مسلمانوں کی معیشت کو بغیر محنت کے مستقل آمدنی حاصل ہو گئی۔
جنگِ خیبر کے اقتصادی اثرات
خیبر کی غنیمت نے اسلامی ریاست پر گہرے اقتصادی اور معاشرتی اثرات مرتب کیے:
- **غریبوں کی مدد:** غنیمت سے ملنے والے حصے سے مسلمانوں کی مالی حالت بہت بہتر ہوئی، اور کئی غریب اور پسماندہ صحابہ کرام کی ضروریات پوری ہوئیں۔
- **مالی استحکام:** خیبر کی مستقل آمدنی نے مدینہ کی ریاست کو مالی طور پر خودمختار بنا دیا اور اسے دوبارہ قریش یا دیگر قبائل کے تجارتی راستوں پر انحصار نہیں کرنا پڑا۔
- **وعدے کی تکمیل:** وہ صحابہ کرام جو معاہدہ حدیبیہ میں شریک تھے، اور انہیں کوئی خاص غنیمت نہیں ملی تھی، وہ اس غنیمت میں شامل تھے، جو اللہ کی طرف سے ان کے صبر کا انعام تھا۔
خلاصہ
جنگِ خیبر سے حاصل ہونے والی غنیمت صرف ایک مالی فائدہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک معاشی قوت تھی جس نے اسلامی ریاست کی فلاح و بہبود کے لیے دروازے کھولے۔ اس تقسیم نے یہ ثابت کیا کہ اسلام میں مال و دولت کی تقسیم میں **انصاف، ضروریات کا خیال، اور فلاح عامہ** کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

0 Comments